1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پوپ جان پال دوئم کی برسی

دنیا بھر میں کیتھولک مسیحیوں کے آنجہانی پیشوا پوپ جان پال دوئم نے اپنی زندگی میں بین المذاہبی مکالمت کی ترویج کے لئے بہت نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔

default

مسلم مسیحی مکالمت کے عمل میں ان کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔

خاص طور پر مسلم مسیحی مکالمت کے عمل میں ان کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں جمعرات کے روز ویٹی کن کے علاوہ دنیا کے کئی دوسرے علاقوں میں جان پال دوئم کا نام اس لئے کافی زیادہ سننے میں آیا کہ دو اپریل جمعرات کے روز اس آنجہانی پوپ کی چوتھی برسی بھی منائی گئی۔

Gedenkmesse für Johannes Paul II.

پوپ جان پال دوئم کی برسی کے موقع ہر ایک دعائیہ تقریب کا منظر

آنجہانی جان پال دوئم آبائی طور پر پولینڈ کے شہری تھے جنہوں نے عمر بھر انسانی حقوق کے احترام اور مذہبی آزادی کے حق کی وکالت کی۔ نئے عالمی معاشی نظام میں وہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے والی ایک ایسی اہم شخصیت کے طور پر بھی جانے گئے جو انہی امور سے متعلق مختلف عالمی رہنماؤں کواکثر اپنے خیالات سے آگاہ بھی کرتے رہتے تھے۔

جان پال دوئم نے یوں تو ہمیشہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر بھی زور دیا لیکن ان کا بہت مثبت کردار اس وقت بھی عالمی ذرائع میں بڑی سرخیوں کا موضوع بنا جب 2003 میں انہوں نے امریکہ کی سربراہی میں اتحادی ملکوں کی عراق کے خلاف جنگ کارخ موڑنے کے لئے ایک باقاعدہ مہم چلائی اور اس دور کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات بھی کی تھی۔ تب اسی مقصد کے لئے انہوں نے اپنے نمائندے عراق اور امریکہ بھی بھیجے تھے۔

اس سے قبل مارچ 2000 میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے لئے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ بھی کیا اور ماضی کے تاریخی واقعات کے پس منظر میں انہوں نے یہودیوں پر مسیحیوں کے مظالم کے لئے ویٹی کن کے سربراہ کے طور پر معافی بھی مانگی تھی۔

Rom gedenkt Johannes Paul II. - Grossbild

ویٹی کن کے باہر عقیدت مندوں کا ہجوم

28 برس تک دنیا بھر کے کیتھولک باشندوں کی سربراہی کرنے والے جان پال دوئم سب سے زیادہ سفر کرنے والے پوپ ثابت ہوئے جنہوں‌ نے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد پاکستان اور بھارت کے دورے بھی کئے تھے۔ جان پال دوئم 16 اکتوبر1978 کو 58 برس کی عمر میں پوپ منتخب ہوئے تھے اور 1981 میں ان پر ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں وہ زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں انہوں نے خود پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ترک نژاد مجرم کو نہ صرف معاف کردیا تھا بلکہ اس سے ذاتی طور پر ملاقات بھی کی تھی۔

سال 2004 میں 84 برس کی عمر تک پہنچتے ہوئے آنجہانی پوپ بیماری کے باعث کافی کمزور ہوچکے تھے اور تب عام خیال یہ کیا جاتا تھا کہ شاید وہ پاپائے روم کے طور پر اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہوجائیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں ہوتی۔

جان پال دوئم کی چوتھی برسی ہی کے سلسلے میں منگل کے روز ان کے جانشین بینیڈکٹ شانزدہم نے ویٹی کن میں ہونے والی ایک خصوصی مذہبی تقریب میں اپنے پیش رو کی خدمات پر تفصیل سے روشی ڈالی اور اس موقع پر کیتھولک مذہبی روایات کے مطابق جان پال دوئم کو مقدس قرار دینے کے عمل کا ذکر بھی ہوا۔