1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پوپ بینیڈکٹ کی جانب سے لیبیا میں مکالمت کی ضرورت پر زور

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانز دہم نے لیبیا کے تنازعے کے حل کے لیے ہتھیاروں کے بجائے سفارتکاری اور مکالمت کی ضرورت پر زور دیا ہے.

default

ایسٹر کے موقع پر پوپ بینڈیکٹ نے دنیا بھر میں شورش کے باعث پناہ گزینی پر مجبور ہونے والوں کے ساتھ یک جہیتی کا پیغام بھی دیا ہے۔ ویٹی کن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزارہا مسیحی زائرین نے پوپ کے اس خطاب کو سنا۔ آبائی طور پر جرمنی سے تعلق رکھنے والے پوپ بینیڈکٹ نے اپنے خطاب میں کہا، ’’ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں، خدا کرے کہ تمام شہری، بالخصوص نوجوان مشترکہ بہتری کے فروغ کے لیے کام کریں۔‘‘ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ شمالی افریقہ کے تارکین وطن کے ساتھ کھلے دل سے پیش آئیں، ’’ تاکہ اتنے سارے بھائیوں اور بہنوں کی ضروریات یکجہتی کے جذبے سے پوری کی جاسکیں۔‘‘

دنیا بھر میں کیتھولک عقیدے کے لگ بھگ ایک ارب کے قریب پیروکاروں کے ایسٹر کے موقع پر اپنے پیغام میں مزید کہا، ’’خدا کرے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و انسانیت کے احترام کی روشنی تفریق، نفرت اور تشدد کے اندھیرے پر غالب آجائے۔‘‘

Papst Benedikt XVI auf dem Petersplatz Vatikan Ostern 2011 Ostermesse

پوپ بینیڈکٹ شانز دہم ویٹی کن میں خطاب کے موقع پر

تیونس اور مصر کے انقلابات سے متاثر ہوکر لیبیا میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے عوام نے جو جو احتجاجی سلسلہ فروری میں شروع کیا تھا وہ اب خانہ جنگی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ لیبیا کے باغی مغربی ممالک کے تعاون سے حکومتی فورسز کے خلاف سر گرم عمل ہیں۔ اسی طرح تیونس اور مصر میں بھی حالات ناگفتہ ہیں جہاں سے سینکڑوں شہری پناہ کی تلاش میں سمندری راستوں سے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

کیھتولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا روایتی طور پر ایسٹر کے موقع پر اپنے پیغام کو دنیا بھر کے مظلوموں کی مشکلات کے حل پر زور دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اپنے آج کے پیغام میں انہوں نے آئیوری کوسٹ میں سیاسی کشیدگی اور جاپان میں زلزلے اور سونامی کے بعد جوہری حادثے کے متاثرین کا بھی ذکر کیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM