1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پوٹن کی دعوت پر فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے روس جاؤں گا، سیپ بلاٹر

عالمی فٹ بال فیڈریشن فیفا کے سابق سربراہ سیپ بلاٹر کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی دعوت پر اگلے برس روس میں ہونے والے فٹ بال کے ورلڈ کپ مقابلوں کے موقع پر روس جائیں گے۔

فیفا کی سربراہی سے برطرف کیے جانے والے سیپ بلاٹر پر پابندی عائد ہے کہ وہ فٹ بال کے کسی بھی ایونٹ کا حصہ نہیں بن سکتے، تاہم بلاٹر نے کہا ہے کہ وہ صدر پوٹن کی درخواست پر روس جائیں گے۔

’فیفا نے دھوکا دیا، اب بھی صدر ہوں‘، سیپ بلاٹر

سیپ بلاٹر فیفا کی صدارت سے مستعفی

بلاٹر اگلے چار سال کے لیے پھر فیفا کے صدر منتخب

81 سالہ سیپ بلاٹر نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا، ’’میں اگلے برس عالمی کپ کے موقع پر روس جاؤں گا۔ مجھے روسی صدر پوٹن کی جانب سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔‘‘

بلاٹر نے بتایا کہ یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن UEFA کے برطرف کیے جانے والے سابق صدر میشائل پلاٹینی کو بھی ان عالمی مقابلوں کے تناظر میں روسی صدر کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔

تاہم پلاٹینی کے قریبی رفقاء کا کہنا ہےکہ پلاٹینی کو صدر پوٹن کی جانب سے اس طرز کا کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا اور فی الحال یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اگلے برس موسم گرما میں کہاں ہوں گے اور کیا کریں گے۔

سیپ بلاٹر جنہوں نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن کی قریب 17 برس تک قیادت کی، انہیں سن 2015ء میں کرپشن کے ایک بہت بڑے اسکینڈل کے بعد ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

فیفا کی اخلاقیات سے متعلق کمیٹی نے انہیں معطل کرتے ہوئے ان کی فٹ بال سے متعلق ہر قسم کی سرگرمیوں میں شرکت پر چھ برس کی پابندی عائد کر دی تھی۔ بلاٹر کے خلاف یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے پلاٹینی سے دو ملین سوئس فرانک کی ناجائز رقم وصول کی تھی۔

تاہم بلاٹر متعدد دفعہ کہہ چکے ہیں کہ وہ عالمی کپ فٹ بال مقابلوں سے دور رہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

DW.COM