1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن کی ترک صدر کے ساتھ ملاقات زیرِ غور نہیں: کریملن

ماسکوحکومت نے کہا ہے کہ کلائمیٹ کانفرنس کے دوران روسی صدر پوٹن نے اپنے ترک ہم منصب سے ملاقات کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب ترک وزیراعظم نے طیارے کو گرانے پر معذرت کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

آج پیر کے روز ماسکو سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ صدر ولادیمیر پوٹن نے پیرس میں اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ کریملن حکومت کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق پیرس میں ترک صدر کے ساتھ کوئی ملاقات زیرِ غور نہیں ہے۔ قبل ازیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ روسی صدر نے ایردوآن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب انہوں نے پیرس میں کلائمیٹ کانفرنس کے دوران ترک صدر کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کے امکان کو بھی رد کر دیا ہے۔

دریں اثنا ترکی نے روسی پائلٹ کی لاش روس روانہ کر دی ہے۔ ترک سرحدی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے نتیجے میں طیارہ تباہ کرنے کے باعث یہ پائلٹ زمین پر پیراشوٹ کے ذریعے اترتے ہی ترکمان علاقے کی پہاڑیوں پر سرگرم جہادیوں کے ہاتھوں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ آج ایک خصوصی پرواز کے ذریعے روسی پائلٹ اولیگ پیشکوف کی لاش کو انقرہ سے روس کے لیے روانہ کیا گیا۔ گزشتہ ویک اینڈ پر ترکمان علاقے کے باغیوں نے روسی پائلٹ کی لاش کو شام سے جنوبی ترکی پہنچایا تھا۔ ترکی کی طرف سے تباہ کیے جانے والے روسی طیارے میں سوار دوسرا پائلٹ کونسٹینٹِن مراختِن بچ گیا تھا اور اب روس پہنچ چکا ہے۔

Türkei übergibt Leiche des Piloten an Russland

روسی پائلٹ کی نعش لے کر جانے والا ترک فوج کا طیارہ

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترک حکومت نے روس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پائلٹ کی لاش کو فوجی پروٹوکول دیا ہے۔ شامی سرحد کے قریب حتائے علاقے میں پائلٹ کی لاش وصول کرنے کے بعد وہاں قائم روسی آرتھوڈکس چرچ میں دعائیہ عبادت بھی کی گئی۔ اِس مذہبی تقریب کے بعد لاش کو ترک دارالحکومت پہنچایا گیا۔ انقرہ کے ہوائی اڈے پر خصوصی فوجی تقریب کا اہتمام کیا گیا اور اِس میں روسی سفارت خانے کے اہلکار بھی شریک ہوئے۔ ترک اخبارات میں اولو کا بیان شائع ہوا ہے اور اُس میں انہوں نے پائلٹ کی ہلاکت پر افسوس کے ساتھ واضح کیا کہ اُن کے ملک کی حدود کا احترام بھی ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اولو نے برسلز میں مغربی دفاعی اتحاد کے سربراہ کے ساتھ میٹنگ میں شرکت کے بعد کہا ہے کہ طیارے کو مار گرانے کے معاملے پر روس سے ترکی معذرت نہیں کرے گا۔ اولو نے ماسکو حکومت سے کہا ہے کہ وہ طیارے کو گرانے کے بعد لگائی جانے والی پابندیوں پر نظرثانی کرے تا کہ کشیدگی کی فضا میں کمی لائی جا سکے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں ترک وزیراعظم نے کہا کہ ترک فضائی حدود اور سرحدوں کی حفاظت اُن کی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور فرض کی ادائیگی کی معذرت نہیں کی جاتی۔

DW.COM