1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن کو شام میں فوجی مداخلت کی اجازت مل گئی

روسی پارلیمان نے کریملن کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ اس اجازت کا تعلق شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف فضائی کارروائی سے ہے تاہم زمینی دستوں کو بھیجنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس نیوز کے مطابق ملکی پارلیمان نے متفقہ طور پر صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے شام میں فوجی روانہ کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آئین کے مطابق پوٹن کو ملکی دستے بیرون ملک بھبجنے سے قبل ایوان بالا سے اجازت لینا لازمی ہے۔ روسی ایوان بالا یعنی فیڈریشن کونسل نے بدھ کے روز ایک بند کمرہ اجلاس میں اس درخواست پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس سے قبل مارچ 2014ء میں مشرقی یوکرائن کے علاقے کریمیا میں روسی فوجی دستے روانہ کرنے کے لیے پوٹن نے فیڈریشن کونسل سے اجازت طلب کی تھی۔

پوٹن انتظامیہ کے ایک اعلٰی اہلکار سرگئی ایوانوف نے بتایا کہ پارلیمان کی جانب سے ملنے والی اس منظوری کا تعلق صرف شام سے ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شامی صدر بشارالاسد نے روس سے فوجی تعاون کی درخواست کی تھی۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ابھی پیر کے روز ہی بشارالاسد کو دیے جانے والے فوجی تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایوانوف کے بقول اس فیصلے کو اب مزید کسی قانونی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

پوٹن کے ایک ترجمان نے اسی ماہ بتایا تھا کہ صدر پوٹن شام میں دستے بھیجنے کا سوچ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے کہا تھا کہ وہ روس کی مدد سے الاذقیہ کے قریب ہوائی اڈے کی تعمیر کے سلسلے کی نگرانی کر رہی ہے۔ پوٹن اور دیگر روس عہدیدار پہلے ہی کہہ چکا ہیں کہ ماسکو حکومت شامی فوج کو صرف اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اس سے قبل یہ بھی کہا جا چکا ہے کہ روسی عسکری ماہرین گزشتہ کئی برسوں سے شام میں موجود ہیں اور شام میں نصب روسی عسکری سازوسامان کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داری ہے۔

پوٹن نے ابھی اسی ہفتے نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ روس شام میں کسی زمینی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی بھی شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ پر فضائی حملے کر رہے ہیں اور اس حوالے سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں یہ جنگی طیارے غلطی سے ایک دوسرے کو ہی نشانہ نہ بنا ڈالیں۔ اس سلسلے میں ماسکو اور واشنگٹن نے ایک مربوط حکمت عملی تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

روس شام کا ایک حلیف ملک ہے۔ شام میں 2011ء میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے ماسکو حکومت بشارالاسد کی پشت پناہی کر رہی ہے۔