1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن کو اب ’سننا‘ بھی سیکھنا ہو گا، جائزہ

امریکی خبر رساں ادارے AP کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریبا 12 برسوں سے روس میں ولادیمیر پوٹن عموما اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے مشہور رہے ہیں، مگر انہیں ایک اچھے سامع کی طرح اپنے مخالفین کی بات بھی سننی چاہیے۔

default

روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹن

گزشتہ ویک اینڈ پر روس کے تقریباﹰ 60 شہروں میں وزیر اعظم پوٹن اور ان کی جماعت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں کا یہ سلسلہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کے الزامات کے بعد شروع ہوا ہے، جو ابھی تک جاری ہے۔ ان مظاہروں میں ماسکو میں کریملن سے محض چند سو گز کی دوری پر کیا جانے والا وہ بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی شامل ہے، جس نے بظاہر روس کے اس سیاستدان کو بھی ہلا کر رکھ دیا جو صرف احکامات دیتے رہنے کا عادی ہے۔

ولادیمیر پوٹن نے ابھی تک ان مظاہروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، حالانکہ سوویت دور کے بعد کے روس میں یہ عوام کی طرف سے ان کے غیر مطمئن اور ناخوش ہونے کا سب سے بڑا اظہار تھا۔ اس پر پوٹن کے ترجمان نے صرف اتنا ہی کہا ، ’ہم مظاہرین کے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں۔ جو کچھ کہا جا رہا ہے، ہم وہ سن رہے ہیں۔ اور ہم اس مؤقف کو توجہ سے سنتے رہیں گے‘۔

Moskau / Russland / Demonstration / Opposition / Parlamentswahl

روس میں جاری احتجاجی مظاہرے

روس میں تین ماہ سے بھی کم عرصے بعد نئے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس الیکشن کے نتیجے میں پوٹن ایک بار پھر اسی عہدے پر فائز ہونا چاہتے ہیں، جس پر وہ سن 2000 سے لے کر 2008ء تک براجمان رہے ہیں۔ لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس میں تبدیلی کے آثار ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والے کئی روسی ٹی وی چینلز نے ان احتجاجی مظاہروں کو اس سے کافی زیادہ کوریج دی، جتنی وہ آج تک اپوزیشن کو دینے کے عادی تھے۔

روسی صدر دیمتری میدویدیف کے ایک مشیر ژیوگنی گونٹ ماخر نے کل اتوار کے روز اپنے ایک بلاگ میں لکھا کہ اگر پوٹن اپوزیشن سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ یہ دکھایا جا سکے کہ اپوزیشن سے مذاکرات ہو رہے ہیں، بلکہ اس لیے کہ حالات میں بہتری لاتے ہوئے کوئی اچھا مصالحتی حل نکالا جائے۔

روسی صدر میدویدیف نے بھی کل اتوار کے روز اپنے فیس بک پیج پر یہ وعدہ کیا تھا کہ روس میں حالیہ پارلیمانی الیکشن میں دھاندلی سے متعلق الزامات کی بھرپور چھان بین کرائی جائے گی۔ لیکن ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس فیس بک پوسٹ پر عام صارفین نے اپنے جو تبصرے لکھے، ان میں ایسی کسی بھی چھان بین کی پیشکش کو رد کر دیا گیا تھا۔ ماہرین کے بقول اس کا مطلب یہ ہے کہ روسی اپوزیشن ایسی کسی بھی کھوکھلی تسلی سے مطمئن نہیں ہو گی۔

امریکی خبر ایجنسی اے پی نے روس میں رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے حوالے سے لکھا ہے کہ روسی اپوزیشن کی طرف سے اگلی مرتبہ احتجاجی مظاہرے 24 دسمبر کو کیے جائیں گے۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن جو آج تک بس اپنی ہی بات کہتے آئے ہیں، اب انہیں ’عوام کی بات کو سننا‘ بھی سیکھنا ہو گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM