1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پوٹن سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا حیران کن جواب، کریملن ناراض

ایک تازہ ٹی وی انٹرویو میں روسی صدر پوٹن کے بارے میں ایک سوال پر امریکی صدر ٹرمپ کے جواب نے میزبان کو حیران کر دیا۔ اس حوالے سے اب روس نے ایک متنازعہ جملے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے ’معافی‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

Donald Trump und Wladimir Putin (picture alliance/A. Lohr-Jones/A. Astafyev/CNP POOL/Sputnik/dpa)

روسی صدر پوٹن، دائیں، اور امریکی ہم منصب ٹرمپ

اس موضوع پر روسی دارالحکومت ماسکو اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے پیر چھ فروری کے روز موصولہ رپورٹوں کے مطابق نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا یہ تازہ ترین انٹرویو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیا، جو اتوار پانچ فروری کی رات نشر کیا گیا۔

اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ کے شریک گفتگو فوکس نیوز کے اینکر بل اورائلی تھے۔ گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے جہاں بہت سے دیگر سوالات پوچھے گئے، وہیں پر بل اورائلی نے نئے ملکی صدر سے ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے بارے میں بھی کئی چبھتے ہوئے سوالات پوچھے۔

Das Logo des Fernsehsenders Fox News Channel

ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں امریکا میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ روس، خصوصاً روسی صدر پوٹن کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی کے خواہش مند ہیں۔ اسی تناطر میں اس انٹرویو کے دوران میزبان نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’پوٹن تو ایک قاتل ہیں‘۔

اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے میزبان کے خدشات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے یہ کہہ کر حیران کر دیا، ’’ہمارے ہاں بھی تو بہت سے قاتل ہیں۔ کیا آپ واقعی سنجیدگی سے یہ سوچتے ہیں کہ ہم تو بہت معصوم ہیں؟‘‘ نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے سیاسی طور پر ان کی مراد 2003ء کی عراقی جنگ تھی۔

اس انٹرویو میں میزبان اورائلی کے ادا کردہ الفاظ پر روسی دارالحکومت ماسکو میں صدر پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کریملن کی طرف سے پیر کے روز نہ صرف واضح ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فوکس نیوز کے اینکر اورائلی کا صدر پوٹن کے بارے میں تبصرہ ’ناقابل قبول‘ ہے اور انہیں اس پر معافی مانگنا چاہیے۔

ٹرمپ اور پوٹن کی پہلی بات چیت، داعش اور شام کی صورتحال پر غور

روس کے ساتھ روابط، ’ٹرمپ کے مشیر کے خلاف تفتیش‘

پوٹن نے ٹرمپ کی مدد کرنے کے ’احکامات‘ دیے، امریکی خفیہ ادارے

ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں بل اورائلی نے یہ تو نہیں بتایا کہ ان کی رائے میں روسی صدر پوٹن نے مبینہ طور پر کس کو قتل کیا تھا لیکن اس بارے میں کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے آج صحافیوں کو بتایا، ’’فوکس ٹی وی جیسے نشریاتی ادارے کے کسی اینکر کی طرف سے ایسی بات کا کہا جانا ناقابل قبول بھی ہے اور توہین آمیز بھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس پر اس نشریاتی ادارے کی طرف سے معافی مانگی جائے۔‘‘

Großbritannien Alexander Litwinenko Symbolbild (AP Graphics)

سابق کے جی بی ایجنٹ لیٹوینینکو جن کے کئی برس قبل لندن میں تابکاری مادے کے ذریعے قتل کی بازگشت ٹرمپ کے اس انٹرویو میں بھی سنائی دی

ولادیمیر پوٹن کے لیے یہ مسلسل 17 واں سال ہے کہ انہیں روسی سیاست میں فیصلہ کن پوزیشن حاصل ہے۔ اس دوران وہ پہلے دو بار ملکی صدر رہے، پھر وزیر اعظم اور اب دوبارہ سربراہ مملکت۔ ان کے ناقدین کا ان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے مخالفین کو قتل کروا دیتے ہیں۔ لیکن کریملن کی طرف سے ایسے الزامات کو غلط اور سیاسی کردار کشی قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا یے۔

اسی تناظر میں گزشتہ رات فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں بل اورائلی نے صدر ٹرمپ سے ولادیمیر پوٹن کے بارے میں جو گفتگو کی، اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ لندن میں کالعدم سوویت یونین کے خفیہ ادارے کے جی بی کے ایک سابق ایجنٹ لیٹوینینکو کو بھی قتل کروا دیا گیا تھا۔

اس پر امریکی صدر ٹرمپ کا جواب تھا، ’’ایسے کوئی شواہد نہیں کہ قصور وار (موجودہ) روسی صدر تھے۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا، پہلی بات تو یہ کہ پوٹن کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ پھر بہت سے دوسرے لوگ بھی کہتے ہیں کہ مجرم پوٹن نہیں تھے۔ اس لیے، یہ بات بھلا کون جانتا ہے کہ یہ قتل کس نے کیا تھا؟‘‘

DW.COM