1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پولیو کے مقابلے میں نائجیریا نے بھی پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا

عالمی ادارہ صحت نے نائجیریا کو پولیو سے متاثرہ ممالک کی فہرست سے باہر نکال دیا ہے۔ اسے ایک ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ ایک برس پہلے اسے اس ملک میں ریکارڈ کیسز سامنے آئے تھے۔

اس بات کا اعلان آج امریکی شہر نیویارک میں دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں منعقد کیے جانے والے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیو سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں اب صرف دو ممالک باقی بچے ہیں۔ ان میں سے ایک پاکستان ہے اور دوسرا افغانستان۔ براعظم افریقہ میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک نائجیریا کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا، ’’ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نائجیریا میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ ملک اور خطہ اپنی منزل سے اس قدر قریب آ گیا ہے کہ یہ پولیو فری کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ نائجیریا میں پولیو کا آخری کیس چوبیس جولائی دو ہزار چودہ کو کانو صوبے میں پیش آیا تھا۔ یاد رہے کہ اگر کسی ملک میں ایک برس تک پولیو کا کوئی بھی کیس منظر عام پر نہ آئے تو اسے پولیو سے متاثرہ ممالک کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے جبکہ پولیو فری ملک کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے تین سال تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آنا چاہیے۔ ڈبلیو ایچ اور کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ گزشتہ بارہ ماہ کے تمام لیبارٹری ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ نائیجیریا میں پولیو کو کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔‘‘

یاد رہے کہ انسان کو معذور بنا دینے والے اس وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ پانچ برس سے کم عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر سے اس مہلک وائرس کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ابھی بھی دنیا میں ایسے علاقے موجود ہیں، جہاں تک راسئی ممکن نہیں۔ رواں برس دنیا بھر میں پولیو کے اکتالیس کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں اور ان میں سے بتیس پاکستان میں سامنے آئے ہیں جبکہ نو افغانستان میں۔

بتایا گیا ہے کہ نائجیریا کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو حملوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ دور دراز کے علاقوں میں ایسی افواہیں بھی موجود ہیں کہ پولیو کے قطرے پینے سے بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں علماء کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ لوگ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت نہ کریں۔