1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پولیو کے خلاف قطروں سے زیادہ بغیر سوئی کے ٹیکے مفید

بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ اس طریقےسے ویکسینیشن حاصل کرنے والے 95 فیصد بچوں کے اندر پولیو کے خلاف موثر قوت مدافعت پیدا ہوئی ہے۔

default

پولیو کے قطروں سے زیادہ موثر ٹیکے کی دریافت

عالمی ادارہ صحت نے پولیو کے خاتمے کے لئے 2010 اور 2012 تک کے بجٹ کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے مطابق 2012 تک پولیو کے خلاف مہم کے لئے 2 اعشاریہ 6 بلین ڈالرز کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ پولیو کے ماہرین نے تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پولیو ویکسینیشن یا ٹیکے کی نارمل ڈوز کا پانچواں حصہ بھی اگر نومولود بچوں کو دے دیا جائے تو انہیں اس بیماری سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ٹیکے کی اس قلیل مقدار کو محض جلد کے نیچے انجیکٹ کیا جائے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج کی مدد سے ویکسینیشن پر آنے والی لاگت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ ترقی پذیر ممالک کا ایک اہم مسئلہ ہے جن میں سے چند ملکوں میں معذوری کا باعث بننے والی بیماریاں ہنوز ایک ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

Flash-Galerie Millenniumsziele

بچوں کے لئے سوئی والے ٹیکے نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں

سوئیوں کے بغیر جسم میں ادویات کی منتقلی کی تکنیک ایجاد کرنے والے معروف ادارے ’ بائیو جیکٹ میڈیکل نے ایک ایسا انجیکشن ایجاد کیا ہے جس میں کوئی سوئی نہیں ہوتی ۔ 2، 4 اور 6 ماہ تک کہ بچوں کو ان کی جلد کے نیچے اس انجکشن کے ذریعے دوا دی جاتی ہے۔ خون کے معائنے یا بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ اس طریقےسے ویکسینیشن حاصل کرنے والے 95 فیصد بچوں کے اندر پولیو کے خلاف موثر قوت مدافعت پیدا ہوئی ہے۔ اس Injectable Vaccine یا بغیر سوئی کے جلد کے اندر دوا منتقل کرنے والے ایک ٹیکے کی قیمت 3 ڈالر ہے۔ پولیو کے خلاف دوا کے قطرے جو مُنہ میں ٹپکائے جاتے ہیں ویسے تو سستے پڑتے ہیں یعنی 15 سینٹ فی ڈوز تاہم یہ اتنے مؤثر ثابت نہیں ہوتے جتنے کے جلد کے نیچے لگائے جانے والے ٹیکے۔ ڈبلیو ایچ او یا عالمی ادارہ صحت سے منسلک ڈاکٹر رولنڈ سوٹر نے کہا ہے کہ بغیر سوئی کے جلد کے اندر دوا منتقل کرنے والے ایک ٹیکے کی قیمت 3 ڈالر سے بھی کم کرکے اسے 1 ڈالر تک لانے کی کوشش کی جا رہے۔

Poliobekämpfung Nordnigeria

پولیو کا انفکشن ناقابل علاج فالج کا باعث بنتا ہے

پولیو اب بھی افغانستان، بھارت، پاکستان اور نائجیریا میں عام ہے۔ پولیو کی بیماری عموماً حفظان صحت کے ناقص انتظام والے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے انفیکشن لگنے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ناقابل علاج فالج کا مرض جنم لیتا ہے کیوں کہ پولیو کا وائرس اعصابی نظام پر براہ راست حملہ کرتا ہے۔ یہ عارضہ سب سے زیادہ چار سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ 1950 کے عشرے تک دنیا کے مختلف معاشروں میں ہر سال ہزاروں انسان پولیو کا شکار ہوکر لقمہ اجل بنتے تھے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس