1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولینڈ کے صدر نے بالآخر لزبن معاہدے پر دستخط کردیے

ایک برس تک معاملے کو التواع میں رکھنے کے بعد پولینڈ کے صدر لیخ کاچِنسکی نے بالآخر آج یورپی یونین میں اصلاحات سے متعلق لزبن معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔

default

پولینڈ کے دارلحکومت وارسا میں ہونے والی ایک تقریب میں یورپی پارلیمان کے اسپیکر یوزے مینویل باروسو اور سویڈن کے وزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ نے بھی شرکت کی۔ اس تقریب میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب صدر کاچنسکی نے معاہدے پر دستخط کرنے کی کوشش کی تو ان کے قلم نے کام کرنے سےانکار کردیا، جس پر پولش صدر نے مسکراتے ہوئے ایک اہلکار سے دوسرا قلم دینے کو کہا جس سے انہوں نے دستخط کئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولینڈ کے صدر نے یورپی یونین میں اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا: " یورپی یونین میں اصلاحات کا یہ معاہدہ ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ اس کے ذریعے یورپ میں وہ اقدامات اور تبدیلیاں لانا ممکن ہوسکے گا جس کی سخت ہے"

پولینڈ کی پارلیمان نے گزشتہ برس اپریل کے دوران یونین میں اصلاحات کے لزبن معاہدے کی توثیق کی تھی ۔ تاہم پولِش صدر کی طرف سے متعدد مرتبہ یہ کہا گیا کہ پولینڈ اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بننا چاہتا تاہم اسکی منظوری کے لئے وہ اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک آئرلینڈ اس کی توثیق نہیں کردیتا۔

Tschechien EU Vaclav Klaus Pressekonferenz in Prag

چیک ری پبلک اب واحد ملک ہے جس کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق ہونا باقی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ صدر واسلاؤ کلاؤس جلد ہی اس پر دستخط کردیں گے۔

آئرلینڈ میں اس سلسلے میں اسی ماہ کی دو تاریخ کو ہونے والے ریفرنڈم میں عوام اس معاہدے کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔ پولینڈ کے صدر کی جانب سے دستخط کے بعد اب اس معاہدے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے صر ف چیک جمہوریہ کی توثیق ہونا باقی ہے۔

چیک جمہوریہ کے وزیر اعظم ژن فشر کا کہنا ہے کہ اِس سال کے آخر تک اُن کا ملک بھی اس اصلاحاتی معاہدے کی توثیق کردے گا۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ چیک جمہوریہ نے توثیق کے لئے ضروری تمام معاملات کو حل کر لیا ہے۔

چیک جمہوریہ کے یورپ سے متعلق وزیر اسٹیفان فیولے کا بھی کہنا ہے کہ پراگ کی جانب سے لزبن معاہدے کی توثیق اب مہینوں کی نہیں بلکہ ہفتوں کی بات ہے۔ چیک جمہوریہ کے وزیر اعظم نے یورپی کمیشن کے صدر سے اِس مناسبت سے بات بھی کی ہے اور وہ برسلز کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات آئندہ منگل ہو رہی ہے۔

لزبن ٹریٹی کا تعلق بنیادی طورپر یورپی یونین کے دستوری فیصلوں پر عمل پیرا ہونے کے طریقہ کار سے ہے۔ اس معاہدے کے عمل میں آنے کے بعد یونین کو بین الاقوامی معاملات پر متفقہ رائے اختیار کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ لزبن معاہدہ اُس وقت تک نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب تک یورپی یونین میں شامل تمام ستائیس رکن ممالک اس کی توثیق نہیں کردیتے۔

یورپ بھر کے اہم سیاستدانوں کی متفقہ رائے ہے کہ لزبن معاہدے کی توثیق کا عمل جلد مکمل ہونا ضروری ہے کیونکہ اِس کے نفاذ سے یورپی یونین ایک فعال ادارے کے طور پر عالمی سطح کے ساتھ ساتھ یورپ کے اندر بھی قابلِ احترام ادارے کے طور پر ابھرے گی۔

رپورٹ : افسر اعون

ادارت : شادی خان