1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولینڈ میں پارلیمانی انتخابات ، وزیر اعظم ٹسک کامیاب

پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اتوار کو منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا دعوی کردیا ہے۔ پول جائزوں کے مطابق ان کی سیاسی پارٹی کو دیگرجماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان منگل کو متوقع ہے۔

default

وزیر اعظم ٹسک

پول جائزوں کے مطابق پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی سوک پلیٹ فارم پارٹی کو چالیس فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹسک کو حکومت سازی کے لیے قطعی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے تاہم ان کی سیاسی جماعت اہم حریف لا اینڈ جسٹس پارٹی پر بڑی سبقت لیے ہوئی ہے۔ یاروسلاف کاچینسکی کی پارٹی کو تیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔

1989ء میں کیمونیزم کے خاتمے کے بعد پولینڈ میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی پارٹی نے مسلسل دو مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ترقی پسندوں کی پارٹی کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک کی کامیابی کو تجارتی حلقوں میں بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرقی یورپ کے اہم ملک پولینڈ میں ڈونلڈ ٹسک کو مزید چار برس کے لیے منتخب کیے جانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ یورپی یونین کی سطح پر اپنی مربوط تجارتی پالیسیوں کا اطلاق جاری رکھ سکیں گے۔

Polen / Jaroslaw Kaczynski / PiS

یاروسلاف کاچینسکی

54 سالہ منجھے ہوئے سیاست دان ڈونلڈ ٹسک نے ان انتخابات میں کامیابی کے بعد پارٹی کے صدر دفتر پر تقریر کرتے ہوئے کہا،’ میں ان تمام لوگوں کو شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ ڈالے یا نہیں ڈالے ہیں۔ ہم نے اب مزید چار برس کے لیے پولینڈ کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہے‘۔ ڈونلڈ ٹسک کے دور حکومت میں ملک نے اقتصادی حوالے سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ یہ یورپی یونین کا واحد ملک تھا ، جو 2008ء اور2009ء کے دوران کساد بازاری کا شکار نہیں ہوا تھا۔ ڈونلڈ ٹسک کی پالیسیوں کو یونین کی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے اور اب یہ امید کی جا رہی ہے کہ یورو زون کو لاحق بحران کے حل کے لیے یہ ملک اہم کردار ادا کر سکے گا۔

62 سالہ قدامت پسند سیاستدان یاروسلاف کاچینسکی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے جبکہ گزشتہ حکومت میں ڈونلڈ ٹسک کی اتحادی سیاسی پارٹیوں نے کہا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر حکمران اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

پولش صدر Bronislaw Komorowski اب ڈونلڈ ٹسک کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ دعوت اس وقت دی جائے گی جب انتخابات کے باقاعدہ سرکاری نتائج سامنے آ جائیں گے۔ متوقع طور پر منگل کی شب تک سرکاری طور پر انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس