1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولینڈ میں صدارتی انتخابات کے لئے پولنگ جاری

یہ انتخابات پولش صدر لیخ کاچنسکی کی حادثاتی موت کے دو ماہ بعد منعقد کرائے جا رہے ہیں، جن میں کاچنسکی کے جڑواں بھائی سمیت دس اُمیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

default

ووٹنگ عالمی وقت کے مطابق شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ ان انتخابات کو ملک میں اقتصادی اصلاحات کے تعین اور مستقبل میں یورپی یونین کے اتحادیوں اور روس کے ساتھ پولینڈ کے تعلقات وضع کرنے کے لئے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پولینڈ کے قائم مقام صدر برونسلاو کوموروسکی اور لیخ کاچنسکی کے بھائی یاروسلاو کاچنسکی اہم امیدوار خیال کئے جا رہے ہیں۔ آج کے انتخابات میں کوئی بھی اُمیدوار 50 فیصد سے زائد ووٹ لینے میں ناکام رہا تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد کرایا جائے گا۔

No Flash Wahlkampf in Polen

لیخ کاچنسکی کے بھائی یاروسلاو کاچنسکی کی انتخابی مہم

یہ دونوں ہی اُمیدوار قدامت پسند کیتھولک مسیحی ہیں۔ تاہم متعدد معاملات پر تقسیم ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اُنہیں دیگر آٹھ امیدواروں پر سبقت حاصل ہے۔

پولینڈ کے صدر لیخ کاچنسکی کا طیارہ رواں برس دس اپریل کو روس کے ایک مغربی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں ان کے ساتھ دیگر 95 افراد بھی ہلاک ہوئے، جن میں ان کی اہلیہ اور پولینڈ کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری عہدے دار بھی شامل تھے۔

اس حادثے کے باعث پولینڈ میں انتخابی مہم میں سرگرمی نہیں دیکھی گئی۔ تاہم لیخ کاچنسکی کی موت سے ان کے بھائی اور قدامت پسند سابق وزیر اعظم یاروسلاو کاچنسکی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، جو تین سال قبل انتخابات میں ناکام رہے تھے۔

اب ایسا لگتا ہے کہ بھائی کی موت کے صدمے نے انہیں بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے فرد کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو سمجھوتہ کر چکا ہے۔

Polen Präsidentenwahl Flash-Galerie

قائم مقام صدر برونسلاو کوموروسکی

قائم مقام صدر برونسلاو کوموروسکی کو فرنٹ رنر قرار دیا جا رہا ہے، جو حکمراں سوک پلیٹ فارم پارٹی کے رکن ہیں۔ وہ پارلیمانی اسپیکر رہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ قوم کو متحد کر سکتے ہیں اور ان کا سیاسی کیریئر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولینڈ کے بیشتر عوام کو کاچنسکی کی جیت پر تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاچنسکی فاتح رہے تو سیاسی تعطل کی فضا جنم لے گی۔ عوام کی بڑی تعداد مانتی ہے کہ برونسلاو اعتدال پسند اور قدرے کم متنازعہ صدر ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مقبولیت کے باوجود برونسلاو مقررہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں اور انہیں چار جولائی کو آئندہ انتخابی مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM