1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پولیس کا رنگ میں بھنگ، گورو کی بھوک ہڑتال ختم کرادی

غیر ملکی بینکوں میں جمع ناجائز پیسہ ملک میں واپس لانے کا مطالبے کرنے والے بھارتی گرو سوامی رام دیو اور ان کے ہزاروں ساتھیوں کی بھوک ہڑتال پولیس نے ہفتہ کی شب جبری طور پر ختم کرا دی۔

گرو رام دیو

گرو رام دیو

پولیس نے گرو رام دیو کی طرف سے لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود ان کے ہزاروں ساتھیوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا ۔ اس کارروائی کے دوران گرو رام دیو کو کچھ دیر تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔ رام دیو نے پولیس کی اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ ایک نامعلوم مقام سے مقامی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے گرو رام دیو نے رام لیلا میدان میں ان کے حامیوں کے خلاف کارروائی کو بد قسمتی قرار دیا۔

بھارتی یوگا گرو سوامی رام دیو کا مطالبہ ہے کہ غیرملکی بینکوں میں موجود کئی بلین ڈالرز بھارتی پیسہ ملک میں واپس لایا جائے اور ذمہ دار افراد کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں گرو رام دیو اور ان کے ہزاروں چاہنے والوں کی طرف سے مطالبات پورے نہ ہونے تک بھوک ہڑتال کا آغاز ہفتے کے روز کیا گیا تھا۔

پولیس نے گرو رام دیو کے ہزاروں ساتھیوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا

پولیس نے گرو رام دیو کے ہزاروں ساتھیوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا

نئی دہلی پولیس کے ایک ترجمان راجن بھگت کے مطابق: ’’ رام لیلا میدان میں یوگا کے لیے پانچ ہزار افراد کا کیمپ لگانے کی اجازت دی گئی تھی، نہ کہ 50 ہزار افراد کو ساتھ ملا کر احتجاج کی۔ ہم نے یہ اجازت نامہ معطل کرکے انہیں وہاں سے چلے جانے کا کہا تھا۔‘‘

گرو رام دیو کو بھوک ہڑتال سے باز رکھنے کے لیے کانگریس حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ مذاکرات بھی کیے گئے۔ ہفتے کے روز حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ سوامی رام دیو کے زیادہ تر مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ تاہم رام دیو کی طرف سے ہفتے کی سہ پہر اپنے پیروکاروں سے کہا گیا کہ وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں۔

بھارتی مبصرین کے مطابق گرو رام دیو کے بھوک ہڑتالی کیمپ پر پولیس کی کارروائی سے نہ صرف گرو کے مطالبات میں مزید سختی آئے گی بلکہ بھارت بھر میں ان کے لاکھوں پیروکاروں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہوسکتا ہے، جس سے کانگریس کی مخلوط حکومت کی مقبولیت میں بھی کمی آئے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس