1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولیس، پاکستان کا 'بدعنوان ترین' محمکہ

آج دنیابھر میں انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے انسداد بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنے ساتویں گلوبل کرپشن بیرومیٹر کا اجراءکیا ہے۔

default

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوان ممالک کے بارے میں فہرست میں پاکستان کا نمبر چونتیسواں ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کے مطابق پاکستان میں سب سے کرپٹ ادارہ پولیس کا محکمہ ہے جبکہ اس کے بعد دیگر سرکاری ادارے، پارلیمان، عدلیہ اور فوج کا نمبر آتا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان میں نمائندے عادل درانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری دفاتر میں کرپشن عروج پر ہے البتہ عدلیہ کے ادارے میں کرپشن میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا، "پولیس کے بعد پبلک آفس ہولڈرز کا کردار پہلے آتا ہے، پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز کا نام تو بعد میں آتا ہے جبکہ پبلک آفس ہولڈر وہ لوگ ہیں جن پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کا نفاذ کریں جبکہ ایسا نہیں ہو رہا جس کی وجہ اس سروے میں سامنے آ رہی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ادارہ ہے سپریم کورٹ، جوکرپشن کے کیسز پر سوموٹو لے رہا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کچھ کم ہوتی نظر آنی چاہیے۔"

Transparency International Logo

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوان ممالک کے بارے میں فہرست میں پاکستان کا نمبر چونتیسواں ہے

دوسری جانب موجودہ حکومت کا سب سے اہم مسئلہ کرپشن ہی نظر آتا ہے۔ اپوزیشن رہنماﺅں کی جانب سے اور ذرائع ابلاغ میں آئے روز کسی نہ کسی حکومتی وزیر یا ادارے کے سربراہوں پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ان میں سے بعض کیسز میں بدعنوانی کی کڑیاں صدر اور وزیراعظم تک بھی جاتی ہیں۔ انہی الزامات کے سبب وزیر داخلہ رحمان ملک نے چند دن قبل انسداد بدعنوانی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹ ادارے خود کو سدھار لیں، "جو بھی دفتر ہے خواہ واپڈا کا ہے، ایف آئی اے کا ہے، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کا ہے یا نادرا اور سی ڈی اے، جو بھی پبلک ڈیلنگ ادارے ہیں اور جن میں کرپشن ہو رہی ہے وہ اپنے آپ کو سدھار لیں۔"

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کے خاتمے اور احتساب کے لئے پارلیمانی کمیٹیوں کو فعال کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قائد حزب اختلاف کی سربراہی میں قائم پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیاں بدعنوانی کے مسئلے پر خاطر خواہ قابو نہیں پاسکیں۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ایک رکن اور مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکمران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ عوام کو لوٹتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ساٹھ کی دہائی سے کرپشن میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور اس کے روکنے میں کسی بھی ادارے نے کردار ادا نہیں کیا ۔ فوجی حکمران آئے تو انہوں نے بھی کرپشن کو فروغ دیا اور جمہوری حکومتوں نے بھی کرپشن کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے۔"

Pakistan Islamabad Gebäude vom Vefassungsgericht

آج کل بھی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تمام اہم مقدمات کرپشن ہی سے جڑے ہوئے ہیں

پاکستان میں قومی احتساب بیورو NAB کا ادارہ بھی جانبدارانہ احتساب کے الزامات کے باعث ہمیشہ ہدف تنقید رہا ہے یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد حکومت کو نیب ترمیمی آرڈیننس دو ہزار دس واپس لینا پڑا۔ اسی طرح نیب کے نئے چیئرمین دیدار حسین شاہ کی تقرری بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کی گئی ہے جس پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اطہرمن اللہ کے مطابق میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں احتساب کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا،"پراسیکیوٹرز کی تعیناتی بھی سیاسی شفارشوں پر منحصر ہے اگر یہ سفارش پر تعینات ہونگے تو ان کو اپنا کیس پیش کرنے میں بھی مسئلہ ہوگا۔"

آج کل بھی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تمام اہم مقدمات کرپشن ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان مقدموں میں سٹیل مل، نیشنل انشورنس کمپنی، وزارت مذہبی امور اور کرائے کے بجلی گھروں کے ٹھیکے دینے میں مبینہ کرپشن کے مقدمات شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ ہی کی مداخلت پر دو روز قبل امریکی پاور کمپنی نے کرائے کے بجلی گھر لگانے کے لیے مبینہ طورپر فراڈ کے ذریعے حکومت پاکستان سے حاصل کی گئی سوا دو ارب روپے کی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کرائی۔ انسداد دہشتگردی کے دن کے موقع پر بھی جمعرات کو سپریم کورٹ میں حج انتظامات میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کا کیس زیرسماعت رہا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میں آئے روز بڑھتی ہوئی کرپشن کا براہ راست اثر غریب آدمی پر پڑ رہا ہے جس سے اس کا معیار زندگی دن بدن گر رہا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس