1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولیس نے زینب کی تلاش میں سست روی سے کام لیا، انیس انصاری

پاکستان کے شہر قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی سات سالہ بچی کے والد نے پنجاب پولیس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرنے میں بہت سست روی سے کام لیا۔

یہ بات ریپ کا شکار ہونے والی مقتولہ بچی زینب کے والد انیس انصاری نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہی۔ جس وقت زینب لاپتہ ہوئی، اُس کے والد اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف زینب کی دردناک موت پر اُس کے خاندان سے تعزیت کرنے قصور پہنچے تھے۔

سات سالہ زینب گزشتہ ہفتے اُس وقت لاپتہ ہو گئی تھیں، جب وہ قریب کے ایک گھر میں قرآن کا درس لینے جا رہی تھیں۔ زینب کی لاش منگل کے روز کوڑے کے ایک ڈھیر میں پڑی ملی تھی۔

لاش ملنے کے بعد سے ہی قصور شہر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو آج جمعرات کے روز تک جاری ہے۔ یہ مظاہرے حکومت اور پولیس کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ زینب کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔

ان مظاہروں میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شہباز شریف نے زینب کے والد کو یقین دلایا ہے کہ اُن کو انصاف دلایا جائے گا جب کہ پنجاب حکومت کے ایک بیان کے مطابق قصور کے پولیس سربراہ کو اس معاملے میں غفلت برتنے پر ملازمت سے بر طرف کر دیا گیا ہے۔

 علاوہ ازیں پنجاب پولیس کے تین اہلکاروں کو ہوا میں فائرنگ کرنے کے بجائے  پستولوں کا رخ بدھ کے روز مظاہرہ کرنے والوں کی جانب کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے قتل پر پاکستان بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سول سوسائٹی کے کارکنان سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس کی مذمت کر رہے ہیں۔

پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ وہ ایمن کے ساتھ ہوئے الم ناک سانحے پر دل شکستہ ہیں۔ ملالہ نے ایمن کے قاتلوں  کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

DW.COM