1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پولیس مقابلہ، لاہور میں دس طالبان حملہ آور ہلاک

پاکستانی پولیس نے لاہور میں ایک کارروائی کرتے ہوئے دس طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک شدگان میں فروری میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے خود کش حملے میں ملوث مبینہ جنگجو بھی شامل تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستانی پولیس کے حوالے سے آٹھ مارچ بروز ہفتہ بتایا کہ گزشتہ رات مسلح افراد کے ایک گروہ  اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں دس طالبان باغی مارے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کم از کم نو دہشت گردوں نے اُس وقت حملہ کر دیا جب پولیس طالبان کے پانچ ارکان کو مناواں لے جا رہی تھی۔

لاہور کا سانحہٴ بیدیاں روڈ: مقدمہ درج، تحقیقات جاری

لاہور میں خود کش حملہ، کم از کم چھ افراد ہلاک

لاہور دھماکہ دہشت گردی تھی یا حادثہ؟

اس کارروائی میں یہ حملہ آور اپنے ساتھیوں کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے اور انہیں لے کر فرار ہو گئے۔ پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ان دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور اضافی نفری کے ساتھ ان کا محاصرہ کر لیا۔ تاہم اِن  کی جانب سے ہتھیار پھینکنے سے انکار پر پولیس نے کارروائی شروع کر دی۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے گروہ جماعت الحرار کے دس مسلح افراد مارے گئے۔ اس طالبان گروہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ تیرہ فروری کو لاہور میں ہوئے اس خود کش حملے میں ملوث تھا، جس میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والوں میں انوارالحق نامی دہشت گرد بھی شامل ہے، جسے مال روڈ پر ہونے والے حملے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

Pakistan | Selbstmordanschlag auf ein Volkszählungsteam in Lahore (DW/T. Shahzad)

پاکستانی پولیس نے لاہور میں ایک کارروائی کرتے ہوئے دس طالبان کو ہلاک کر دیا ہے

انوارالحق نے اعتراف کیا تھا کہ یہ حملہ جماعت الحرار کے جنگجوؤں نے کیا تھا۔ پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب کچھ روز قبل ہی اس شہر میں مردم شماری کی ایک ٹیم پر ہونے والے خود کش حملے میں سات افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

رواں برس فروری میں پاکستان بھر میں ہونے والے تازہ حملوں کے نتیجے میں 130 افراد مارے گئے تھے۔ تب سے دیگر بڑے شہروں کی طرح لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی۔

 

DW.COM