1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

پولستانی مصنفہ پاکستان کی محبت میں سرشار

پاکستان آنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ پاکستانی خواتین پاکستانی معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہیں جو ہر شعبہء زندگی میں مردوں کی دستِ نگر ہیں۔ لیکن پاکستانی عورت اتنی خود مختار ہوگی اس کا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔

Pakistan Joanna Kusy

جوانا کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان اور پولینڈ کے لوگ بہت سی باتوں میں ایک جیسے لگے

یہ کہنا ہے پولستانی خاتون مصنفہ ’جوانا کوسی‘ کا جو گزشتہ قریب پانچ برسوں سے پاکستان میں مستقل طور پر مقیم ہیں۔ پاکستان کے موضوع پر ان کی پولش زبان میں تحریر کردہ کتاب ’عام پاکستانی زندگی‘ کو پولینڈ میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کتاب بالخصوص پاکستان کے شہر کراچی اور بالعموم پاکستان کی ثقافت اور سماجی منظر نامے سے متعلق ہے۔

جوانا اپنی کتاب’’ عام پاکستانی زندگی‘‘ کے دیباچے میں لکھتی ہیں، ’’یہ کتاب نہ تو ادب کے ڈراموں پر مشتمل ہے نہ ہی خوفناک کہانیوں پر۔ اس میں آپ کو کلاشنکوف ہاتھ میں لیے کوئی مرکزی کردار بھی نہیں ملے گا۔ یہ میری زندگی کے پاکستان میں گزرے اب تک کے ان چند سالوں کے مٹھی بھر تجربات اور یاد داشتوں کا نچوڑ ہے جب شادی کے زرق برق کپڑے الماری میں لٹکا دیے گئے تھے اور ہاتھوں پر لگی مہندی کے رنگ پھیکے پڑنے لگے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد آغاز میں ہر چیز اُس ماحول سے بہت مختلف اور اجنبی تھی میں جس میں پلی بڑھی تھی۔ تاہم ہرجذبے کے پیچھے ایک ہی قوت کار فرما ہے اور وہ یقین اور محبت کی قوت ہے۔ اسی جذبے نے مجھے بھی پاکستان منتقل ہونے پر مجبور کیا۔‘‘

Joanna Kusys Buch Zwyczajne pakistanskie zycie

جوانا کی کتاب پاکستانی صوفی ثقافت، پاکستان کی تاریخ اورسماجی زندگی کی بھر پور تصویر پیش کرتی ہے

جوانا کی کتاب ’عام پاکستانی زندگی نہ صرف ان کے کراچی میں قیام پر مبنی تجربات پر مشتمل ہے بلکہ پاکستانی صوفی ثقافت، پاکستان کی تاریخ اورسماجی زندگی کی بھی بھر پور تصویر پیش کرتی ہے۔ صوفی اقدار اور رسم و رواج کی بات کرتے ہوئے جوانا اپنی کتاب میں، پاکستان میں صوفیاء کے مزاروں کا ذکر کرنا نہیں بھولیں۔

ڈی ڈبلیو سے انٹرویو میں جوانا نے خصوصی ویب پیج ’وجود زن ‘ کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ چونکہ پاکستانی معاشرے میں وسیع طبقاتی فرق ہے اس لیے معاشی اور تعلیمی لحاظ سے مضبوط خواتین کو محروم طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینی چاہیے ۔

جوانا کوسی نے ڈی ڈبلیو سے اپنی خصوصی بات چیت میں بتایا کہ اپنی کتاب میں انہوں نے ایک غیر ملکی کی نظر سے ان مشکل حالات کا ذکر کیا ہے جو کراچی کے امیر علاقوں میں رہنے والوں کے مقابلے میں کم آمدنی والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ جوانا ماہر عمرانیات ہیں اسی لیے پاکستانی معاشرے میں خود کو ضم کرنا ان کے لیے جہاں کسی قدر دقت طلب تھا وہیں دلچسپی سے خالی بھی نہیں تھا۔ پہلی بار وہ بطور مہمان پاکستان آئی تھیں۔ جوانا کا کہنا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ پاکستانی لوگ اس سے بہت مختلف تھے جیسا ان کے بارے میں انہیں تاثر ملا تھا۔

جوانا کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان اور پولینڈ کے لوگ بہت سی باتوں میں ایک جیسے لگے۔ مثلاﹰ پاکستان میں خاندانی اقدار کا جس طرح پاس کیا جاتا ہے اسی طرح پولینڈ میں بھی خاندان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Pakistan Joanna Kusy

جوانا کہتی ہیں کہ محبت کے جذبے نے انہیں پاکستان منتقل ہونے پر مجبور کیا

اس کے علاوہ پولینڈ اور پاکستان کے لوگوں میں ایک اور بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں ممالک کے لوگ اپنے ملکوں کے سیاسی اور سماجی نظام پر آپس میں خوب تنقید کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی غیر ملکی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ جوانا نے پاکستان اور کراچی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ جب بھی کچھ دن کے لیے اپنے آبائی ملک پولینڈ جاتی ہیں، انہیں پاکستان یاد آنے لگتا ہے۔

DW.COM