1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پولانسکی کی غیر حاضری میں سزا کی درخواست مسترد

لاس اینجلیس کی ایک عدالت نے امریکی محکمہ انصاف کو مطلوب آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ہدایت کار رومان پولانسکی کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ انہیں اپنے خلاف مقدمے میں ان کی غیر حاضری میں ہی سزا سنا دی جائے۔

default

سوئٹزرلینڈ میں پولانسکی کی رہائش گاہ جہاں وہ نظر بند ہیں

رومان پولانسکی کو، جن کی عمر اس وقت 76 برس ہے، امریکی ریاست کیلی فورنیا میں اپنے خلاف اس وجہ سے مقدمے کا سامنا ہے کہ انہوں نے 1977 میں اس وقت ایک تیرہ سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ 1978 میں پولانسکی کیلی فورنیا سے فرار ہو کر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ پیرس میں رہائش پذیر تھے اور گزشتہ برس ستمبر میں انہیں سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سوئس حکام کے ہاتھوں اپنی گرفتاری کے بعد پہلے وہ کئی ہفتے جیل میں رہے اور پھر ایک عدالت کے حکم پر انہیں سوئٹزرلینڈ ہی میں ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ اس وقت وہ سوئٹزرلینڈ سے ملک بدر کر کے اپنے ممکنہ طور پر امریکہ بھیجے جانے کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔

امریکی شہر لاس اینجلیس میں، جہاں کے دفتر استغاثہ کو گزشتہ تین عشروں سے بھی زائد عرصے سے ان کی تلاش ہے، رومان پولانسکی نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ امریکہ میں اپنے خلاف عدالتی کارروائی سے بچ نہیں سکیں گے، ایک مقامی عدالت کو اپنے وکلاء کے ذریعے یہ درخواست دی تھی کہ انہیں ان کی غیر حاضری میں ہی سزا سنا دی جائے۔

Regisseur Roman Polanski Flash Format

پیدائشی طور پر پولینڈ سے تعلق رکھنے والے رومان پولانسکی

اس پر لاس اینجلیس کی اس عدالت کے جج پیٹر ایسپینوزا نے جمعہ کو سماعت کے دوران یہ کہا کہ عدالت نہ صرف رومان پولانسکی کی درخواست مسترد کرتی ہے بلکہ عدالت کا اصرار ہے کہ یہ ’’مفرور فلم ہدایت کار لازمی طور پر امریکہ لوٹیں تاکہ ان کے خلاف ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی روابط کے الزام میں انہیں ان کی موجودگی میں سزا سنائی جا سکے۔‘‘

جج ایسپینوزا نے کہا کہ عدالت کو اس بات سے ’’کوئی سروکار نہیں کہ ملزم کوئی بہت مشہور شخصیت ہے یا کوئی ایوارڈ یافتہ فلم ہدایت کار۔ اس لئے کہ کوئی بھی شخص انصاف یا اس کے تقاضوں سے بالا تر نہیں ہے۔ لہٰذا ملزم پولانسکی کو ہر حال میں کیلی فورنیا لوٹنا ہوگا۔‘‘

عدالت کے اس مؤقف کے بعد رومان پولانسکی کے وکلاء نے کہا کہ وہ اس بارے میں اب ایک اپیل دائر کریں گے کہ ان کے مؤکل کی یہ درخواست منظور کی جائے کہ متعلقہ عدالت ملزم کے خلاف فیصلہ ان کی غیر حاضری میں ہی سنا دے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: ندیم گِل

DW.COM