1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پورٹو ریکو کا امریکا کی 51 ویں ریاست بننے کا فیصلہ

پورٹو ریکو میں ہونے والے ایک عوامی ریفرنڈم میں رائے دہندگان نے اس ملک کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کی حمایت کر دی۔ اتوار گیارہ جون کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں ووٹروں کی شرکت کا تناسب انتہائی کم رہا۔

پورٹو ریکو کے دارالحکومت سان خوآن سے پیر بارہ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملکی اپوزیشن جماعتوں نے اتوار 11 جون کو ہونے والے اس ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا اور اس عوامی رائے دہی میں شہریوں کی شرکت کا تناسب انتہائی کم رہا۔

Puerto Rico | Abstimmung über Beitritt als 51. Bundesstaat der USA (REUTERS/T. Rucinski)

ریفرنڈم میں صرف تئیس فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

اس ریفرنڈم کے نتائج پر عمل درآمد قانوناﹰ لازمی نہیں ہے لیکن اس طرح ریاستی انتظامیہ نے یہ طے کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس ملک کو امریکا کی 51 ویں ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔

پورٹو ریکو میں ووٹ دینے کے اہل شہریوں کی تعداد 2.2 ملین ہے، جن میں سے صرف 23 فیصد نے اس ریفرنڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان ووٹروں میں سے بھی 1.3 فیصد نے کہا کہ وہ اس ملک کے امریکا کے ساتھ تعلق کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

اس کے برعکس 1.5 فیصد رائے دہندگان نے باقاعدہ طور پر امریکا کی ایک ریاست بن جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پورٹو ریکو کو اپنی آزادی قائم رکھنا چاہیے۔ دوسری طرف 97.2 فیصد ووٹروں نے اس امر کی حمایت کی کہ اس ملک کو باقاعدہ طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کا حصہ بنتے ہوئے امریکا کی 51 ویں ریاست بن جانا چاہیے۔

پورٹو ریکو کے گورنر ریکارڈو روسیلو نے، جنہوں نے اپنا ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے بھی اس بات کی حمایت کی کہ اس خطے کو امریکا کی ایک باقاعدہ ریاست بن جانا چاہیے، نتائج سامنے آنے کے بعد کہا کہ ریفرنڈم میں عوام کی شرکت بہت ہی کم رہی، لیکن وہ پھر بھی یہی کوشش کریں گے کہ یہ ریاست باقاعدہ طور پر امریکا کی ایک یونین اسٹیٹ بن جائے۔

Puerto Rico Gouverneur Ricardo Rossello (Reuters/A. Baez)

پورٹو ریکو کے گورنر ریکارڈو روسیلو

پورٹو ریکو بحیرہ کیریبیین کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، جسے امریکا کا تحفظ حاصل ہے۔ قانونی طور پر یہ جزیرہ 1898 سے ایک ایسا امریکی علاقہ ہے، جو باقاعدہ طور پر امریکا کا حصہ نہیں ہے۔ اسی لیے پورٹو ریکو کو پاس خود کوئی حتمی ریاستی اختیارات نہیں ہیں اور وہاں کا انتظامی سربراہ بھی صدر نہیں بلکہ گورنر کہلاتا ہے۔

پورٹو ریکو کو اس وقت اپنی اقتصادی بدحالی کے وجہ سے انتہائی شدید مسائل کا سامنا ہے اور اس جزیرے کے ذمے عوامی قرضوں کی مالیت بھی 73 بلین ڈالر ہو چکی ہے۔

اگر پورٹو ریکو کے باقاعدہ طور پر امریکی ریاست بننے کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا، تو اس کے لیے امریکی کانگریس کو بھی اس خطے کی ایک امریکی ’پروٹیکٹوریٹ‘ کے طور پر موجودہ حیثیت تبدیل کرتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر امریکا کی ایک ریاست بنانے کی منظوری دینا ہو گی۔