1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پورا دیر الزور شامی حکومتی دستوں کے قبضے میں، داعش مزید پسپا

جنگ زدہ شام کے تیل کی پیداوار کے لیے مشہور مشرقی شہر دیر الزور کو شامی حکومتی دستوں نے تین سال بعد پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس شہر پر دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے دو ہزار چودہ میں قبضہ کر لیا تھا۔

default

مشرقی شام کا سب سے بڑا شہر دیر الزور جنگ سے پوری طرح تباہ ہو چکا ہے

لبنانی دارالحکومت بیروت سے جمعہ تین نومبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شام کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ دیر الزور اب مکمل طور پر صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

اس پیش رفت کی سرکاری ٹیلی وژن کی طرف سے تصدیق سے پہلے ملکی فوج کے اعلیٰ ذرائع اور برطانیہ میں قائم شامی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی تصدیق کر دی تھی کہ دیر الزور میں، جو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا آخری بڑا گڑھ سمجھا جاتا تھا، داعش کو ایک اور بڑی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

روسی صدر ایران میں، جنگ زدہ شام میں تعاون بھی اہم موضوع

’تباہ کن حالات‘ کے شکار تیرہ ملین شامیوں کو مدد کی اشد ضرورت

بکھرتی ’خلافت‘ کے صحراؤں کی خاک چھانتے جہادی

شامی ٹیلی وژن پر اس حوالے سے بتایا گیا، ’’شامی حکومتی دستوں نے، اپنی اتحادی فورسز کے ساتھ مل کر دیر الزور کو دہشت گرد تنظیم داعش کے پنجوں سے پوری طرح آزاد کرا لیا ہے۔‘‘ دیر الزور شہر میں، جو اسی نام کے مشرقی شامی صوبے کا دارالحکومت بھی ہے، ایک مخصوص حکومتی علاقے کو داعش نے تین سال قبل اپنے عسکری پھیلاؤ کے دور کے نقطہ عروج پر وہاں موجود اسد حکومت کے دستوں اور قریب 93 ہزار عام شہریوں سمیت اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔

Syrien Krieg - Kämpfe in Deir ez-Zor

اوپر: مکمل قبضے سے پہلے شہر میں شدید لڑائی جاری رہی۔ نیچے: شامی حکومتی دستوں کا ایک فوجی فتح کا نشان بناتے ہوئے

یہ محاصرہ طویل عرصے تک جاری رہا تھا۔ اس سال ستمبر میں شامی دستے یہ محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جس کے اس پورے شہر کو داعش کے جہادیوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ایک بڑی جنگ شروع ہو گئی تھی۔

شامی خانہ جنگی کی مختصر تاریخ

ایرانی فوجی سربراہ شامی شہر حلب کے پاس جنگی محاذ پر پہنچ گئے

داعش کے ٹوٹنے سے القاعدہ کی طاقت میں اضافہ

ان عسکری کارروائیوں میں اسد حکومت کی فوجوں کو روسی فضائیہ کے وسیع تر فضائی حملوں کی صورت میں بڑی فیصلہ کن مدد بھی حاصل رہی تھی، جس کے ذریعے اس شہر پر داعش کی گرفت کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔

ویڈیو دیکھیے 00:48

شامی خانہ جنگی میں پیدا ہونے والے

دیر الزور میں اسد حکومت کی اس کامیابی کے بارے میں دمشق کی عسکری اتحادی حزب اللہ ملیشیا کے میڈیا یونٹ کی طرف سے بتایا گیا، ’’فوج نے دیر الزور میں الحامدیہ، شیخ یاسین، الارضی اور الراشدیہ نامی ان علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جو اس شہر میں داعش کے زیر قبضہ آخری علاقے تھے۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اسد حکومت کو مشرقی شام میں ملنے والی اس کامیابی میں روسی فضائیہ کے حملوں کے علاوہ ایران اور حزب اللہ کی شیعہ ملیشیاؤں نے بھی اہم کردارا دا کیا جبکہ دوسری طرف وہ شامی ملیشیا گروپ بھی داعش کے خلاف لڑ رہے تھے، جنہیں امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

دیر الزور مشرقی شام کا سب سے بڑا اور اہم ترین شہر ہے، جو دریائے فرات کے کنارے واقع ہے اور جو اسی نام کے صوبے کا دارالحکومت بھی ہے۔ دیر الزور صوبہ شام میں تیل کی پیداوار کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس شہر سے نکالنے جانے کے بعد داعش کے جنگجو اب اس شامی صوبے کے جن حصوں میں موجود ہیں، وہ عراق کے ساتھ سرحد پر واقع اس صوبے کا ایک چھوٹا سا حصہ بنتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ علاقہ شہر سے باہر زیادہ تر دریائے فرات کے قریبی علاقوں اور چند صحرائی حصوں پر مشتمل خطہ ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic