1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پورا امریکا شمالی کوریا کے میزائلوں کی زد میں؟‘

جمعہ اٹھائیس جولائی کی رات شمالی کوریا نے اپنے دوسرے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ بھی کر دیا، جس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس میزائل کے ذریعے امریکا کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

جمعے ہی کی رات امریکی، جنوبی کوریائی اور جاپانی حکام نے بھی تصدیق کر دی کہ شمالی کوریا نے اپنے ایک نئے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا نے یہ میزائل چینی سرحد کے قریب واقع اپنے علاقے مُوپیونگ سے داغا، جس نے مجموعی طور پر ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا اور جاپان کی سمندری حدود کے قریب سمندر میں جا گرا۔

شمالی کوریا نے بھی جمعے کی شب اس میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل 47 منٹ تک فضا میں رہا اور سطح زمین سے 37 سو کلومیٹر کی بلندی تک گیا۔ یو سی جی گلوبل سکیورٹی پروگرام کے معاون ڈائریکٹر ڈیوڈ رائٹ کے مطابق اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں، تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میزائل کی رینج قریب دس ہزار چار سو کلومیٹر تک ہے، یعنی اس کے ذریعے شمالی کوریا سے امریکا کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ رائٹ نے ان اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ امریکی شہر لاس اینجلس، ڈینور اور شکاگو اس میزائل کے نشانے پر ہیں جب کہ بوسٹن اور نیو یارک تک کو بھی اس سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

North Korea failed ballistic missile launch (picture-alliance/dpa/Jeon Heon-Kyun)

شمالی کوریا کی جانب سے رواں برس میزائل تجربات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے

زاویہء قائمہ پر اس میزائل کی اڑان کا مطلب یہ ہے کہ پیونگ یانگ اسے جاپانی فضائی حدود میں داخل کیے بغیر اپنے ہدف تک پہنچانے کا اہل ہو گیا ہے۔

شمالی کوریا کا دعویٰ ہےکہ اس میزائل تجربے کے ذریعے امریکا کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیونگ یانگ کے خلاف کسی بھی عسکری کارروائی سے باز رہے کیوں کہ امریکا کے تمام علاقے شمالی کوریا کے نشانے پر ہیں۔

شمالی کوریا کے خبر رساں ادارے کے سی این اے نے ملکی رہنما کم جونگ اُن کا ایک بیان بھی جاری کیا ہے، جس کے مطابق، ’’واشنگٹن کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں ہمیں بتا رہی ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری درست عمل ہے۔‘‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میزائل تجربے کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’’یہ شمالی کوریا کی حکومت کا ایک اور بھیانک اور خطرناک عمل ہے، جس سے یہ ملک مزید تنہا اور اقتصادی طور پر اور زیادہ کمزور ہو گا۔‘‘