1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پوتے کے لیے ’ناجائز‘ تحفہ، بہو ساس کو تھانے لے گئی

جنوبی جرمن صوبے باویریا میں ایک خاتون اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو اس کی دادی کی طرف سے ملنے والے ایک ’غیر معمولی اور ناجائز‘ تحفے پر اتنی ناراض ہوئی کہ وہ اس پر اپنی ساس کو مقامی تھانے میں لے گئی۔

باویریا کے دارالحکومت میونخ سے منگل انتیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پولیس کی طرف سے آج بتایا گیا کہ اس 67 سالہ جرمن خاتون نے کرسمس کے حال ہی میں منائے گئے مسیحی تہوار کے موقع پر اپنے پوتے کو چاکلیٹ کا ایک ایسا پیکٹ تحفے میں دیا، جس کے ہر ٹکڑے میں الکوحل بھری ہوئی تھی۔

بظاہر یہ کوئی بڑی غلطی نہیں تھی کیونکہ جرمن خاندانوں میں کرسمس کے موقع پر یا خوشی کے دیگر دنوں میں بالغ اہل خانہ یا رشتے داروں کو اکثر ایسے تحفے دیے جاتے ہیں۔ ایسی چاکلیٹ دنیا کے کئی ملکوں میں بہت پسند کی جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ بنا کہ اس واقعے میں تحفہ وصول کرنے والا لڑکا صرف گیارہ سال کا تھا اور جرمنی میں قانوناﹰ نابالغ افراد کو تمباکو اور الکوحل کی فروخت یا ان کی فراہمی منع ہے۔

Schokolade Pralinen (Symbolbild)

الکوحل والی چاکلیٹ عام طور پر بالغ افراد کو تحفے میں دی جاتی ہے

پولیس نے آج اس واقعے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے بیٹے کو ایسا تحفہ ملنے پر، جسے اس لڑکے کی والدہ نے ’غیر معمولی اور ناجائز‘ قرار دیا، یہ جرمن خاتون شدید غصے میں آ گئی اور اس نے اس کی اطلاع مقامی پولیس کو بھی کر دی۔ ’’یہ خاتون غصے سے بالکل بپھری ہوئی تھی۔‘‘

پولیس نے خاتون کی شکایت پر اس کی ساس کو طلب کر لیا اور اس کی اچھی خاصی سرزنش کی۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق 67 سالہ دادی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اس نے غلطی کی تھی اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ بھی تھی۔

پولیس ترجمان نے بتایا، ’’یہ کیس اس طرح ختم کر دیا گیا کہ متعلقہ خاتون (دادی) اپنی بے احتیاطی میں کی گئی غلطی پر پچھتا رہی تھی اور ہم نے اسے آئندہ محتاط رہنے کی تنبیہ بھی کر دی ہے۔ اب یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا ہے۔‘‘

پولیس کو شکایت کرنے والی بچے کی ماں کے مطابق اس کے بیٹے نے الکوحل والی چاکلیٹ کا پیکٹ کھول کر جب پہلا ٹکڑا منہ میں ڈالا تو اس نے اسے فوراﹰ ہی تھوک دیا تھا۔ ’’مجھے اپنی ساس کی غلطی کا علم تب ہوا جب میرے بیٹے نے یہ چاکلیٹ منہ میں ڈالتے ہی تھوک دی۔ مجھے شدید غصہ آنا قدرتی بات تھی۔‘‘

ڈی پی اے نے اپنی رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا کہ اس واقعے کے بعد ساس اور بہو نے کرسمس کا تہوار اکٹھے منایا یا علیحدہ علیحدہ۔