1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پوتن کی نظریں ایک بار پھر اقتدار اعلیٰ پر

با اثر شخصیت کے مالک اور مسلسل دو مرتبہ روس کے صدر رہنے والے موجودہ وزیر اعظم ولادی میر پوتن نے ایک مرتبہ پھر صدارت کے منصب پر فائز ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

default

پوتن روس کی خفیہ سروس کے جی بی کے جاسوس بھی رہ چکے ہیں۔ روسی آئین کے مطابق وہ 2008ء میں مسلسل تیسری بار صدارت کے اہل نہیں رہے تھے، جس کے سبب انہوں نے اپنی جماعت ہی کے دیمیتری میدویدیف کو اپنا پسندیدہ پیش رو قرار دیا تھا۔

روسی میں سماجی شعبہ کے ماہرین کے ایک گروپ سے کی گئی گفتگو میں پوتن نے کہا کہ ان کے اور صدر میدویدیف کے درمیان اس سلسلے میں ذہنی ہم آہنگی موجود ہے کہ 2012ء کے صدارتی انتخابات کے لئے کیا پالیسی اختیار کی جائے گی۔ پوتن اور ماہرین کے اس گروپ کے درمیان ملاقات بحر اسود کے تفریحی مقام سوچی میں پیر کو ہوئی۔

Putin und Medwedew

پوتن اور میدویدیف کے درمیان خاصی اچھی ذہنی ہم آہنگی تصور کی جاتی ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے تیسری بار صدارت کے لئے نامزدگی سے روس کے سیاسی نظام پر منفی اثر پڑے گا تو پوتن نے جواب میں امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی مثال دی۔ انہوں نے کہا، ’امریکی صدر روزویلٹ کو مسلسل چار بار صدر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ یہ امریکی آئین کے منافی نہیں تھا۔‘

سابق صدر نے مزید کہا کہ وہ اور صدر میدویدیف ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے روسی آئین اور بنیادی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ واضح رہے کہ میدویدیف 2008ء کے اواخر میں روسی قانون میں تبدیلی کرکے مستقبل میں صدرارت کے عہدے کی مدت کو چار سے بڑھا کر چھ سال کرچکے ہیں۔

روس کی حکمران یونائٹیڈ رشیا پارٹی اور وزراء کی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے پوتن کو روس کا سب سے با اختیار شخص تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 31 دسمبر 1999ء کو عبوری مدت کے صدر کی حیثیت سے اس وقت پہلی بار قیادت کا یہ اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا جب سابق صدر بورس یلسن نے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے بعد پوتن 2000ء اور 2004ء کے صدارتی انتخاب میں ملک کے صدر چنے گئے۔

Bildgalerie Boris Jelzin und Wladimir Putin

پوتن آنجہانی روسی صدر بورس یلسن کے ہمراہ

44 سالہ موجودہ روسی صدر میدویدیف عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ اور 57 سالہ پوتن میں سے کوئی ایک 2012ء میں صدر کے عہدے کے لئے انتخاب میں حصہ لے گا اور اس کا فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔

1985ء تا 90ء کے دوران کے جی بی کے لئے کام کرتے ہوئے پوتن مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں تعینات رہے تھے۔ سوچی میں ماہرین کے ساتھ کی گئی حالیہ گفتگو میں ایک موقع پر پوتن نے کہا، ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ غلط ہے کہ تمام اختیار ایک ہی شخص کے پاس ہوں، اسی لئے میں نے میدویدیف کے ساتھ اختیار تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس