1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

پنشن سے ہسپتال بنانے والی پاکستانی خاتون، بیگم کلثوم منصور

کلثوم منصور نے اپنی ساری زندگی مریضوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال میں صرف کی۔ اڑتیس سالہ ملازمت کے بعد انہیں سرکار کی طرف سے لاکھوں روپے کی گریجوٹی اور پنشن ملی تو انہوں نے اسے بھی غریب مریضوں کے لیے وقف کر دیا۔

لاہور کے برکی روڈ پر واقع ایک پسماندہ دیہی علاقے باؤ والا میں قائم کیا جانے والا ضرار شہید ویلفیئر ٹرسٹ ہسپتال اپنی نوعیت کا منفرد فلاحی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک خاتون نے اپنی پنشن سے شروع کیا تھا، اب بھی اس فلاحی منصوبے کی مدد کرنے والے نمایاں ڈونرز میں زیادہ تر خواتین ہی شامل ہیں۔

یہ ہسپتال ایک ایسے علاقے میں قائم ہے، جہاں مسیحی آبادی بھی بڑی تعداد میں موجود ہے اور ان کو بھی بغیر کسی تعصب کے اس ہسپتال سے طبی سہولتیں مل رہی ہیں۔ غریبوں کی بستی میں قائم کیا جانے والا یہ ہسپتال ضرار شہید ویلفیئر ٹرسٹ نے بنایا ہے ۔ اس ٹرسٹ کی چیئر پرسن مسز کلثوم منصور نے اس فلاحی کام کا بیڑہ کئی سال پہلے اٹھایا تھا۔ پاک فوج میں بطور پائلٹ خدمات سرانجام دینے والے مسز کلثوم منصور کے ایک بیٹے ضرار منصور ’شہید ہوئے‘ تو ان کو ملنے والے تمام پیسے بھی ضرار شہید ٹرسٹ ہسپتال کو دے دیے گئے۔ آج بھی ان کے بیٹے ضرار کی پنشن اسی ویلفئر ہسپتال کے اکاؤنٹ میں باقاعدگی سے آ رہی ہے۔

Pakistan Kulsoom Mansoor

مسز کلثوم منصور کی زندگی کی کہانی خدمتِ انسانی، انتھک جدوجہد اور سماجی کاموں سے عبارت ہے

مسز کلثوم منصور کی زندگی کی کہانی خدمتِ انسانی، انتھک جدوجہد اور سماجی کاموں سے عبارت ہے۔ مسز کلثوم کی عمر ابھی چند برس ہی ہو گی، جب گاؤں میں چراغ جلاتے ہوئے ان کے کپڑے آگ کی زد میں آ گئے اور ان کی انگلیاں اور چہرہ بری طرح جھلس گیا۔ گاؤں کے لوگ انہیں گاؤں میں موجود ایک ’نیم حکیم‘ کے پاس لے گئے، جس کے غلط علاج کے باعث مسز کلثوم منصور کے زخم مزید خراب ہو گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مسز کلثوم منصور کو بیماری کی شدت اور مریضوں کو پیش آنے والی تکلیفوں کا احساس ہوا۔ معذوری، مشکلات اور ناسازگار حالات کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہ ہارنے، ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے اور جدوجہد کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت کلثوم نے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کی تو اسے پتہ چلا کہ ٹنڈو آدم کے اس علاقے میں بچیوں کا کوئی سکول ہی موجود نہیں ہے لہذا انہوں نے گورنمنٹ مڈل سکول ٹنڈو آدم سندھ میں داخلہ لے کر پڑھائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لڑکوں کے اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی وہ واحد طالبہ تھیں۔1957ء میں انہوں نے پرائیویٹ طالبہ کے طور پر پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر ایف ایس سی میں داخلہ لے لیا۔

یہ وہ زمانہ تھا، جب پاکستان میں نرسوں کی شدید کمی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد غیر مسلم نرسوں کی بڑی تعداد بھارت شفٹ ہو چکی تھی۔ انہی دنوں کلثوم کی نظروں سے ایک اشتہار گزرا، جس میں نرسوں کی تعلیم کے حوالے سے درخواستیں مانگیں گئی تھیں۔ کلثوم نے ایف ایس سی چھوڑ کر لیاقت میڈیکل کالج ہسپتال جامشورو میں نرسنگ کے چار سالہ کورس میں داخلہ لے لیا۔ یہ کورس مکمل کرنے کے بعد انہیں ملازمت مل گئی اور سرکاری طور پر انہیں نرسنگ میں پوسٹ گریجویشن کرنے کے لیے جناح ہسپتال کراچی سے منسلک پوسٹ گریجوئٹ کالج آف نرسنگ بھجوا دیا گیا۔ یہاں ان کی شاندار کارکردگی پر انہیں فلورنس نائیٹ اینگل ایوارڈ دیا گیا۔

انہی دنوں65 کی جنگ شروع ہو گئی۔ وہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لاہور چلی آئیں، جہاں جنگ میں زخمی ہونے والے مریض بڑی تعداد میں لائے جا رہے تھے۔ وہ وہاں سرجری کے شعبے میں کام کا تجربہ رکھنے والی واحد نرس تھیں۔ مسز کلثوم بتاتی ہیں کہ ان دنوں کام کے اوقات نہیں ہوتے تھے، دن رات کام کرنا ہوتا تھا اور حملے کی صورت میں طبی عملہ بنکرز میں چلا جاتا تھا۔ انہوں نے کچھ عرصہ لاہور کے لیڈی ولنگٹن ہسپتال اور میو ہسپتال میں بھی بطور نرس خدمات سرانجام دیں۔ وہ ترقی ملنے پر سرگودھا چلی گئیں، بعدازاں نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کے طور پر ان کا تبادلہ رحیم یار خان کر دیا گیا۔ وہ لاہور سیکریٹیریٹ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نرسنگ کے طور پر بھی کام کر تی رہیں۔ پرنسپل کالج آف نرسنگ بھی رہیں۔ 8 اگست 1999ء کو جب بیگم کلثوم منصور ریٹائر ہوئیں تو وہ ڈی جی نرسنگ پنجاب کے عہدے پر بیسویں گریڈ میں کام کر رہی تھیں۔

Pakistan Zara Krankenhaus Ataf Mansoor

کلثوم منصور کے جذبے سے متاثر ہو کر ان کے میاں منصور احمد ملک ، بیٹی ڈاکٹر خولہ اور بیٹے عاطف بن منصور کے علاوہ خاندان کے بہت سے دیگر افراد بھی اس ہسپتال کی فلاحی سرگرمیوں میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیتے ہیں

حکومت نے تو کلثوم منصور کو ریٹائر کر دیا لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مسز کلثوم منصور نے مریضوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ملازمت ختم ہوئی تو گریجوٹی کی مد میں لاکھوں روپے ملے تو وہ اس وقت کے سیکریٹری ہیلتھ پنجاب اسماعیل قریشی کے پاس گئیں اور اپنی تمام جمع پونجی فلاحی مقاصد کے لیے وقف کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ریٹائرمنٹ کے ٹھیک دو دن بعد ان کے صاحبزادے ضرار منصور جو کہ پاکستان ایئر فورس میں پائلٹ تھے ایک افسوسناک سانحے میں ہلاک ہو گئے۔ مسز کلثوم منصور نے اپنی زندگی کے اس بہت بڑے صدمے کو بھی اپنے مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اپنے خاندان کے دیگر لوگوں کے مشورے کے ساتھ ضرار کو حکومت کی طرف سے ملنے والے لاکھوں روپے بھی فلاحی کاموں میں خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کچھ عرصہ جزام کی بیماری کا علاج کرنے والے ایک فلاحی ہسپتال میں رضاکارانہ طور پر کام کر تی رہیں۔ انہیں محکمہ صحت کے بعض حکام نے مشورہ دیا کہ وہ فلاحی مقاصد کے لیے جمع کی گئی اپنی رقم ایک سرکاری ہسپتال کو اپ گریڈ کرنے کے لیے دے دیں لیکن اس پر مسز کلثوم منصور کا دل نہیں مانا۔ کسی نے مسجد بنوانے کا مشورہ دیا لیکن بعض لوگوں کی طرف سے فرقہ وارانہ مسائل کے خدشات ظاہر کرنے پر یہ منصوبہ بھی پروان نہیں چڑھ سکا۔

کلثوم منصور نے طویل سوچ بیچار کے بعد لاہور کے ایک پسماندہ علاقے برکی روڈ پر غریبوں کی ایک بستی باؤ والا میں طبی سہولتیں فراہم کر نے کا منصوبہ بنایا۔ شروع میں تھوڑی سے زمین لے کر ایک ڈسپنسری قائم کی گئی، بعدازاں اسی جگہ پر نو کینال اراضی خریدی گئی اور ضرار شہید ویلفیئر ٹرسٹ ہسپتال کے نام سے ایک پانچ منزلہ فلاحی ہسپتال کی تعمیر شروع کر دی گئی۔

اس فلاحی منصوبے پر کام آج تک جاری ہے، لاگت کا تخمینہ دس کروڑ روپے ہے لیکن اب اس مشن میں بیگم کلثوم منصور تنہا نہیں ہیں۔ ان کے ٹرسٹ کو درد دل رکھنے والے کئی مخیر حضرات کا تعاون بھی میسر آ چکا ہے۔ اس ہسپتال کی بیسمنٹ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ ہسپتال کی تعمیر ہو جانے والی عمارت میں طبی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ تیس روپے کی پرچی کے ساتھ علاقے کے غریب لوگ اس ہسپتال سے طبی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس وقت شعبہ آوٹ ڈور، ایکسرے ڈیپارٹمنٹ اور جرنل سرجری کے علاوہ امراضِ چشم، شعبہ دندان، گائنی اور ٹی بی کے مریضوں کا علاج بھی کیا جا رہا ہے۔ تمام شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی خدمات میسر ہیں۔ ہسپتال کا موبائل یونٹ گرد و نواح کے دیہاتوں میں جا کر مریضوں کا معائنہ کر تا ہے اور انہیں بیماریوں سے بچنے کی آگاہی فراہم کر تا ہے۔ ابتدائی طور پر دو ہزار سے زائد مریض ہر مہینے اس ہسپتال سے طبی امداد حاصل کر رہے ہیں۔

ہسپتال پر اٹھنے والے تین لاکھ روپے کے ماہانہ اخراجات کا بڑا حصہ بیگم کلثوم منصور کی فیملی، ان کے دوست احباب اور مخیر حضرات ادا کر تے ہیں۔ مسز کلثوم منصور کی عمر 76 سال ہو چکی ہے۔ کئی سال پہلے لاحق ہو جانے والے گلے کے کینسر کی وجہ سے انہیں کیمو تھراپی کے مراحل سے بھی گزرنا پڑا ہے ۔ بڑھاپے اور علالت کے باوجود وہ آج بھی اس ہسپتال میں آ کر مریضوں کو دی جانیوالی طبی سہولتوں کی نگرانی کر تی ہیں۔ کلثوم منصور کے جذبے سے متاثر ہو کر ان کے میاں منصور احمد ملک ، بیٹی ڈاکٹر خولہ اور بیٹے عاطف بن منصور کے علاوہ خاندان کے بہت سے دیگر افراد بھی اس ہسپتال کی فلاحی سرگرمیوں میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔ ہسپتال میں آئی کیمپ لگتا ہے تو بیگم کلثوم منصور کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی ورکروں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

اس ہسپتال کا انتظام سرکاری طور پر رجسٹرڈ ایک ٹرسٹ چلاتا ہے۔ ہسپتال کی آمدن اور اخراجات کا ہر سال آڈٹ ہوتا ہے۔ ہسپتال کے تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے بنائی جانیوالی کنسٹرکشن کمیٹی ہسپتال کی تعمیر کے مراحل کو آگے بڑھا رہی ہے، سماجی کاموں سے وابستہ ایک سماجی رہنما خالد بٹ کہتے ہیں کہ بیگم منصور کلثوم پاکستان کی ’مدر ٹریسا‘ ہیں۔ انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور ساری زندگی اس مشن کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل رہیں۔ 76 سالہ بیگم کلثوم منصور کو پتہ نہیں ہے ان کی زندگی کی سانسیں کب تک ان کا ساتھ دے پائیں گی لیکن ان کا جی چاہتا ہے کہ اگر زندگی انہیں مہلت دے تو وہ غریب بچیوں کے لیے نرسنگ سکول قائم کر جائیں۔