1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پندرہ ماہ میں ایک ملین سے زائد مہاجرین یونان پہنچے

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس جنوری سے اب تک یونان پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں افراد سمندر برد بھی ہوئے۔

Idomeni Flussüberquerung Flüchtlinge Mazedonien

سن 2015ء کے آغاز سے اب تک یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہو چکی ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ نے بتایا ہے کہ سن 2015ء کے آغاز سے اب تک یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے۔

DW.COM

یو این ایچ سی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’سن دو ہزار پندرہ سے اب تک ایک ملین سے زائد افراد، جن کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے، یونان میں داخل ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار بنتی ہے۔ یہ افراد ترکی کے راستے یونان پہنچے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین بحیرہ ایجیئن کے راستے ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دوران درجنوں افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کے یونان پہنچنے سے ایتھنز حکومت کے علاوہ یورپی یونین کے رکن دیگر ممالک کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مہاجرین کا تعلق ایسے ممالک یا علاقوں سے ہے، جہاں شورش برپا ہے یا انہیں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا ہے۔

یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ مہاجرین کا موجودہ بحران فوری ایکشن کا متقاضی ہے۔ اس ایجنسی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مہاجرین کے سیلاب کو روکنے کی خاطر ایک عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ زیادہ تر شامی مہاجرین کی کوشش ہے کہ وہ یورپ پہنچ جائیں، اس کے لیے وہ انسانوں کے اسمگلروں سے بھی رابطے کرتے ہیں۔

Idomeni Flussüberquerung Flüchtlinge Mazedonien

خطرناک سمندری راستوں سے یونان پہنچنے والے موجودہ مہاجرین میں سے ساٹھ فیصد خواتین اور بچے ہیں

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شامی خانہ جنگی کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ سات ملین شامی باشندے اپنے ملک کے اندر ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔ شامی خانہ جنگی اب چھٹے سال میں داخل ہو چکی ہے جبکہ اس کے خاتمے کی کوئی بڑی امید ابھی تک نظر نہیں آ رہی ہے۔

یو این ایچ سی آر نے اس بحران سے جڑے انسانی المیے کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خطرناک سمندری راستوں سے یونان پہنچنے والے موجودہ مہاجرین میں سے ساٹھ فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

اس ادارے کے مطابق بحیرہ روم کا پرخطر راستہ طے کرتے ہوئے یورپ پہنچنے کی کوشش میں رواں برس ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 448 بنتی ہے جبکہ گزشتہ برس ایسی ہلاکتوں کی تعداد 3771 رہی تھی۔