1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پندرہ سالوں میں ملیریا کی وجہ سے اموات کی شرح میں ساٹھ فیصد کمی

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہتر تشخیصی ٹیسٹوں اور بڑے پیمانے پر مچھر دانیوں کی تقسیم کی وجہ سے سن دو ہزار سے لے کر اب تک ملیریا کی وجہ سے اموات میں ساٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

default

مچھر دانیاں اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں

عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کی طرف سے جاری کیی گئی ایک مشترکہ رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ 2015 اس بات کی نشاند ہی کرتا ہے کہ ملیریا کے 214 ملین کیسز میں چار لاکھ اڑتیس ہزار اموات ہوئی ہیں جبکہ 15 سال پہلے 262 ملین کیسز میں ہلاک ہونے والے کیسوں کی تعدد آٹھ لاکھ چالیس ہزار تھی۔

DW.COM

عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چان نے کہا ہے کہ’ گلوبل ملیریا کنٹرول پچھلے 15 سال میں عوامی صحت کی کامیاب کہانیوں میں سے ایک ہے۔‘ اگر پچھلے 15 سالوں میں اموات کی اس شرح میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہوتی تو اس بیماری کی وجہ سے اب تک 62 ملین مزید لوگ لقمہ اجل بن چکے ہوتے۔

چان نے مزید کہا، ’ ہم اس پرانے قاتل کو شکست دے سکتے ہیں جبکہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ اب بھی پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے ملیریا کے شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔‘ اس سال پوری دنیا میں ملیریا کے باعث سب سے زیادہ اموات زیریں صحارا کے ممالک میں ہوئی ہیں، جن کی شرح 80 فیصد ہے اور ان ریجن میں انفیکشن کی روک تھام کی کوششیں دنیا کے دوسرے حصوں سے کافی کم ہیں۔

مارگریٹ چان اور یونیسف کے ڈائریکٹر جنرل انتھونی لیک نے خبردار کیا ہے کہ اس ناہموار ترقی کی وجہ سے اب زیادہ توجہ اور وسائل سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے لیے مختص کرنا چاہییں۔ ان دونوں کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے، ’ اگر ہم تمام رکاوٹوں پر قابو پاکر ترقی کی رفتار تیز کر دیں تو عالمی سطح پر ملیریا کا خاتمہ ممکن ہے۔‘

رپورٹ میں ملیریا کے انفیکشن کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ سن 2000 کے بعد افریقی ممالک میں کیڑے مار ادویات والی ایک بلین مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں۔

اسی برس کے دوران بچوں کی مچھر دانیوں میں سونے کی شرح صرف 2 فیصد تھی، جو اب سن 2015 میں بڑھ کر 68 فیصد ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مچھر چونکہ رات میں زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے ان خصوصی مچھر دانیوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم اور استعمال کی وجہ سے انفیکشن میں اہم کمی واقع ہوئی ہے۔

افریقی ممالک میں مریضوں اور طبی کارکنوں کے درمیان ایک مستقل رحجان یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے بخار میں ملیریا والی دوائیاں استعمال کرتے ہیں، جس سے ایسے لوگوں کے علاج میں کمی رہ جاتی ہے، جن کو واقعی ملیریا ہوتا ہے۔ لیکن اب نئے تشخیصی طریقہ جات کی وجہ سے طبی کارکن ملیریا کے مریضوں اور عام بخار والے مریضوں میں تفریق کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ان دو ایجنسیوں نے اپنے لیے سن 2030 تک ملیریا کے انفیکشن میں 90 فیصد تک کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یونیسف کے ڈائریکٹر جنرل انتھونی لیک نے کہا ہے، ’ہم جانتے ہیں کہ ملیریا کا علاج کیسے ممکن ہے اور اس کا خاتمہ کیسے ہوگا۔ جب ہم یہ کرسکتے ہیں تو ہمیں ضرور کرنا چاہیئے۔‘