1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پندرہ برس‘ کی عمر میں گرفتار کیا گیا مجرم تختہ دار کا منتظر

پاکستان میں انصار اقبال نامی ایک ایسے مجرم کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ جب اسے گرفتار کیا گیا تھا تو وہ ’پندرہ برس‘ کا تھا۔ اقبال کا یہ کہنا بھی ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث نہیں تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ انصار اقبال کے وکلاء نے زور دیا ہے کہ ان کا مؤکل نہ صرف بے قصور ہے بلکہ جب اسے گرفتار کیا گیا تھا تو اس کی عمر صرف ’پندرہ برس‘ تھی۔ انصار اقبال کو سولہ برس قبل اس کے ایک دوست کے ساتھ مل کر اپنے ہمسائے کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اقبال کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ میچ پر بحث کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا تھا لیکن اس میں اقبال ملوث نہیں تھا۔

انصار اقبال کے بقول اسے اس کیس میں اس لیے پھنسایا گیا کیونکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اپنا دفاع نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے اس کے گھر سے ’جو گنیں برآمد کی تھیں، وہ دراصل پولیس نے ہی اس کے گھر میں چھپائی تھیں‘۔

پاکستان قوانین کے تحت کسی کم عمر بچے کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی لیکن اس کیس میں ملکی عدالتوں نے اقبال کے اسکول کے ریکارڈ اور پیدائش کے سرٹیفیکٹ پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ یہ اہم کاغذات دیر سے جمع کرائے گئے تھے۔ اقبال کے اسکول ریکارڈز کے مطابق جب اسے گرفتار کیا گیا تھا تو اس کی عمر پندرہ یا سولہ برس تھی۔

Pakistan Shafqat Hussain Todeskandidat

پاکستان میں شفقت حسین کو بھی پھانسی دی گئی تھی، جو گرفتاری کے وقت صرف سترہ برس تھا

انصار اقبال کے وکیل منیر باسط نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اس کے مؤکل کو بالغ تصور کرکے قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انصار اقبال کو آئندہ ہفتے سرگودھا کی ایک جیل میں تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں سزائے موت پر عائد پابندی کو گزشتہ برس دسمبر میں اس وقت ختم کر دیا گیا تھا، جب پشاور کے ایک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد جنگجوؤں کو سزا دینے کے لیے سزا پر عملدرآمد شروع کیا گیا تھا۔ اس اسکول پر حملے کے نتیجے میں 130 بچے بھی مارے گئے تھے۔ تب سے اب تک کم از کم 240 مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے لیکن ان میں سے دہشت گردی کے مجرمان کی تعداد انتہائی کم ہے۔

DW.COM