1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں گیس کا بحران سنگین تر

پاکستان کے صوبے پنجاب میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، گیس نہ ملنے کی وجہ سے سینکڑوں کارخانوں میں کام بند ہو چکا ہے اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں گاڑیوں کے لیئے سی این جی بھی دستیاب نہیں ۔

default

ایوان صنعت و تجارت لاہور کی طرف سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق گیس نہ ملنے کی وجہ سے صوبے میں 13 سو سے زائد کارخانوں میں کام بند ہو چکا ہے اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لگ بھگ 25 ہزار کے مزدور روزی کمانے سے محروم ہو چکے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پچھلے ایک ہفتے میں گھریلو صارفین کی طرف سے گیس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے پنجاب کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کی ہوئی ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما وحید رامے کے مطابق گیس کے بحران کی وجہ سے اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کمانے والی ٹیکسٹائل کی صنعت کے لئے ایکسپورٹ آرڈرز کی تکمیل مشکل ہو گئی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اس بحران کی وجہ سے پاکستان عالمی منڈی میں اپنا مارکیٹ شیئر کھو بیٹھے گا۔ وحید رامے نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت صرف پنجاب کے صوبے میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کرکے تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

Bolivien Gas Gasflaschen

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما کیپٹن (ر) شجاع نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ صرف ایک دن سی این جی اسٹیشن بند رکھنے سے پنجاب کے عوام کو آمدورفت کے لئے مہنگا ایندھن خریدنے کے لئے 25 کروڑ روپے اضافی خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بحران عام آدمی کے معاشی بوجھ میں اضافے کا باعث بھی بن رہا ہے۔

جہلم کے ایک رہائشی فیصل نے بتایا کے اس کے گھر میں قدرتی گیس نہیں آرہی ۔ ادہر لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں رہنے والی ایک گھریلو خاتون نادیہ نے بتایا کے گیس کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں صبح ناشتہ بنانے میں دقت ہوتی ہے۔ بچے سکول سے لیٹ ہو جاتے ہیں۔

ادھر سوئی نادرن گیس پائپ لائینز لیمیٹد کے حکام کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین ان کی پہلی ترجیع ہیں اس لئے صنعتوں کو گیس کی فراہمی روک کر گیس کے محدود ذخائر ان کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق صنعتی صارفین کے ساتھ ان کا صرف نو ماہ کا معاہدہ ہوتا ہے اور انھیں گیس کی ان تین مہینوں میں عدم فراہمی کا پہلے ہی بتا دیا جاتا ہے۔ ان کے بقول اسی لئے صنعتی صارفین کا واویلا درست نہیں ہے۔

رپورٹ تنویر شہزاد، لاہور

ادارت شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس