1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں ڈینگی سے ہلاکتیں جاری، اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان

پاکستان میں ڈینگی بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال صوبہ پنجاب میں ہے جہاں سرکاری حکام ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ بتا رہے ہیں۔

default

 تاہم غیر سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مہلک مرض اب تک ایک سو کے قریب افراد کی جان لے چکا ہے۔ جمعے کی صبح لاہور میں ڈینگی کے مزید چھ مریضوں کی ہلاکت نے شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل عدالت نے ڈینگی کے پھیلاؤ کی تحقیقات کے لیے قائم کیے جانے والے کمیشن کے سربراہ آفتاب سلطان کو سات اکتوبر کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے ایک وکیل کی طرف سے دائر کی جانے والی وہ درخواست رد کر دی جس میں ڈینگی کے علاج  اور روک تھام کی کوششوں میں غفلت برتنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Pakistan Lahore Denguefieber

لاہور کے اسپتالوں میں ڈینگی بخار میں مبتلا مریضوں کا رش ہے

 ڈینگی کی وجہ سے دس روز کے لیے بند کیے جانے والے لاہور کے تعلیمی اداروں میں مچھر مار اسپرے کا چھڑکاؤ جاری ہے۔ حکومت نے طلبہ و طالبات کے لیے ایک ماہ تک یونیفارم کی پابندی ختم کر تے ہوئے انھیں پوری آستینوں والے کپڑے پہن کر تعلیمی اداروں میں آنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ شام کے اوقات میں تعلیمی اداروں میں سپورٹس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب تعلیمی اداروں کے نئے اوقات صبح نو بجے سے شام تین بجے تک ہوں گے۔ حکومت نے ڈینگی سے بچاؤ کی ہدایات کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

جمعے کے روز لاہور میں ساڑھے سات سو غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اجلاس میں وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے عوام میں ڈینگی کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے این جی اوز سے مدد کی درخواست کی ہے۔

ڈینگی سے متاثرہ بھائی کو علاج کے لیے لاہور کے میو ہسپتال میں لانے والے ایک نوجوان محمد عامر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس کے مریض کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی ہے۔ اس کے بقول نہ پوری ادویات مل رہی ہیں اور نہ ہی پلیٹ لٹس بروقت مل رہے ہیں۔

 میو ہسپتال کے ڈاکٹر علیم نے بتایا کہ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس برس ان مریضوں کے مرض کی پیچیدگیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے بقول سولہ سولہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کے باوجود وہ مریضوں کا رش نہیں سنبھال پا رہے۔

یاد رہے لاہور کے کئی بڑے ہسپتالوں نے حکومت سے اضافی طبی عملہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM