1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ، سنگین ہوتا ہوا بحران

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نوجوان ڈاکٹروں کی ایک ماہ سے جاری ہڑتال کی وجہ سے صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے ۔

default

صوبے کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آوٹ ڈور اور ان ڈور وارڈز میں طبی سہولیات کی معطلی کے بعد اب ان نوجوان ڈاکٹروں نے ایمرجنسی میں بھی کام بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے صحت کے شعبے میں ایک بحران کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اگرچہ حکومت نے موسم بہار کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے سینئر ڈاکٹروں کو ایمر جینسی کے شعبے میں فرائض ادا کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن صورت حال بہتر نہیں ہو سکی ہے۔ صرف انتہائی سنگین حادثوں کے شکار چند ایک مریضوں کو ہی ایمرجنسی میں علاج کی محدود سہولتیں میسر آ رہی ہیں۔

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں موجود کوئی چھبیس سو ڈاکٹروں میں سے ڈیڑھ ہزار کے قریب ڈاکٹر اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے آج کل احتجاج کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک رہنما ڈاکٹر سلمان کاظمی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ ایک ہاوس سرجن کو تیس ہزار روپے، میڈیکل آفیسر کو اسی ہزار روپے، سینئر رجسٹرار کو ڈیڑھ لاکھ روپے، اسسٹنٹ پروفیسر کو دو لاکھ روپے، ایسوسی ایٹ پروفیسر کو اڑھائی لاکھ روپے اور پروفیسر کو تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملنی چاہیے۔

Pakistan Opfer nach Selbstmordanschlag im Krankenhaus von Peshawar

صرف انتہائی سنگین حادثوں کے شکار چند ایک مریضوں کو ہی ایمرجنسی میں علاج کی محدود سہولتیں میسر آ رہی ہیں

جمعرات کی شام پنجاب حکومت نے جونیئر ڈاکٹروں کی تنخواہیں بیس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی لیکن سینئر ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر ڈاکٹروں اور حکومت میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور نوجوان ڈاکٹروں نے اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے بتایا کے شدید اقتصادی بحران کے اس دور میں سیلابی آفت کی وجہ سے صوبے کو چالیس ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ان کے بقول حکومت پنجاب اپنا سالانہ ترقیاتی بجٹ ایک سو بانوے ارب روپے سے کم کر کے اسے ایک سو بیالیس ارب روپے کم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق ان ڈاکٹروں کے نامناسب مطالبات ماننے کی صورت میں حکومت کو سالانہ سولہ ارب روپے مزید خرچ کرنا ہوں گے۔ ڈاکٹروں کے دباؤ میں آکر تنخواہوں میں غیر معمولی اضافے کے فیصلے کی صورت میں چوبیس ہزار نرسوں ، پانچ لاکھ اساتذہ، لاکھوں کلرکوں اور ہڑتالی انجینیرز کی تنخواہیں بھی ان کی مرضی کے مطابق بڑھانی پڑیں گی، جو کہ حکومت کے بس میں نہیں ہے کیونکہ پنجاب حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔

ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر حامد بٹ کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کے پاس بھارت سے ہارنے والی کرکٹ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو دینے کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے تو ہیں لیکن ڈاکٹروں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ یینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ایک اور رہنما عثمان ایوب کے مطابق اب ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ نوجوان ڈاکٹر اجتماعی استعفے دینے پر غورکر رہے ہیں ان کے بقول یہ ڈاکٹر تو بیرون ملک جا کر بھی ملازمتیں حاصل کر لیں گے لیکن ہر غریب مریض نواز شریف کی طرح بیرون ملک جا کر اپنا علاج نہیں کروا سکتا۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹروں کے مطالبے مان لے۔

سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی چاندی ہو گئی ہے۔اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ ادھر سرکاری ہسپتالوں میں مناسب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بچوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔

گنگا رام ہسپتال کی ایمرجینسی کے باہر موجود ایک شخص عبدالوحید نے بتایا کہ ایمر جینسیاں بند کرنا انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ ان کے مطابق وہ شدید پیٹ درد میں مبتلا اپنے بھائی کو لیکر ہسپتال آیا لیکن اسے دیکھنے کے لیے کوئی ڈاکٹر وہاں موجود نہیں ہے۔ جبکہ ہسپتال سیکورٹی گارڈز کے حوالے کر دیا گیا ہے،’ ڈاکٹروں اور حکومت دونوں کو عوامی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے‘۔ اس کے بقول پرائیویٹ ہسپتال میں وہ علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتا اور سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کہاں جائے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM