1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں میڈیا اور سیاست ، آمنےسامنے

پاکستان کےسب سے بڑے صوبے پنجاب کی قانون ساز اسمبلی میں صحافیوں کے خلاف متفقہ طور پر منظور کی جانے والی ایک حالیہ قراردادکےبعد سیاستدانوں اورصحافیوں کےتعلقات کافی کشیدہ ہو گئےہیں۔

default

ہردور میں صحافیوں کو قیدوبند کی صعبتیں برداشت کرنا پڑیں

صحافیوں کی طرف سے اسمبلی کی کارروائی کا غیر معینہ مدت کیلئے بائییکاٹ کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں صحافی تنظیمیں اس قرارداد کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد کو واپس لینے یا پھر صحافیوں کی حمایت میں نئی قرارداد لانے کیلئے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بدھ کے روز بھی صحافیوں کااحتجاج جاری رہا۔ لاہور پریس کلب میں تمام بڑی صحافتی تنظیموں کےعہدےداراکٹھے ہوئے۔ اس موقعہ پر اس مشترکہ اجلاس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور پنجاب اسمبلی میں موجودسیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما میڈیا کے خلاف لائی جانے ولی قرارداد پر معافی مانگیں اور اس قرارداد کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ اس موقعے پر صحافیوں نے اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ۔

یاد رہے جمعے کے روز مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن پنجاب اسمبلی ثنا اﷲ مستی خیل کی طرف سے میڈیا کے خلاف ایک قرارداد ایوان میں پیش کی گئی تھی جسے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کی طرف سے مخالفت نہ کئے جانے پر متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

Pakistan Protestaktion pakistanische Journalisten protestieren gegen Medienzensur und Ausnahmezustand in ihrem Land

بدھ کے روز بھی صحافیوں کااحتجاج جاری رہا

اس موقعے پر ایوان میں کی جانے والی تقریروں میں ارکان اسمبلی نے صحافیوں پر سنگین الزامات عائد کئے تھے۔ بعد ازاں ملک بھر میں صحافتی تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے یہ کہہ کر اس قرارداد سے لا تعلقی ظاہر کر دی تھی کہ قرارداد لانے کا فیصلہ رکن اسمبلی کا ذاتی فیصلہ تھا اور یہ مسلم لیگ (ن) کی پارٹی پالیسی نہیں ہے۔

بدھ کے روز صحافیوں کی حمایت میں پنجاب اسمبلی کے سامنے مسلم (ق)، ایم کیو ایم اور کئی دیگر تنظیموں نے مظاہرے کئے ۔ ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے بعد صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیلئے مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور قائد حزب اختلاف چوہدری ظہیر احمد جب صحافیوں کے پاس آئے تو صحافیوں نے شیم شیم کے نعرے لگاتے ہوئے ان سے پوچھا کہ وہ اس وقت کیوں نہیں بولے جب ایوان میں صحافیوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے جا رہے تھے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن)کے رہنماوں ذوالفقار کھوسہ اور رانا ثنا اﷲ خان کا بھی گھیراو کر کے صحافیوں نے نعرے لگائے۔

بدھ کی شام حکومت کی طرف سے رانا ثنا اﷲ خان ، راجہ ریاض ، ثنا اﷲ مستی خیل اور مشہود احمد خان سمیت کئی ارکان اسمبلی صحافیوں کو منانے کیلئے جب اسمبلی سے باہر آئے تو صحافیوں نے ان سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات فیڈر ل یونین آف جنرلسٹس کی طرف سے قائم کردہ ایک مرکزی کمیٹی ہی کرے گی۔

ادھر پنجاب حکومت کے ترجمان پرویز رشید نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرارداد لے کر آنا ایک غلط اقدام تھا اور اس غلطی کی ذمہ داری مسلم لیگ(ن) قبول کرتی ہے۔ ان کے مطابق صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔

ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے صدر رائے حسنین طاہر نے بتایا کہ میڈیا کریڈٹ کارڈ چوری کرنے والے ، اسمبلی کے فلور پر غیر مہذب گفتگو کرنے والے اور جعلی ڈگریاں رکھنے والے ارکان اسمبلی کی خبریں سامنے لاتا رہا ہے ۔ اس وجہ سے سیاسی جماعتیں میڈیا کو دباو میں لا کر ان کے آزادی اظہار کے حق کو محدود کرنا چاہتی ہیں۔

رپورٹ : تنویر شہزاد

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM