1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں لانگ مارچ، چھپ چھپا کے، بچ بچا کے

پاکستان میں حکومتی رکاوٹوں کی وجہ سے سڑکوں پر وکلا ء کے اجتماعی لانگ مارچ کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب وکلاء نئی حکمت عملی کے تحت انفرادی طور پر سفر کرتے ہوئے چھپ چھپا کر بڑے شہروں میں پہنچ رہے ہیں۔

default

بڑی تعداد میں وکلاء کو گرفتار کیا جا چکا ہے

پہلے سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق لانگ مارچ کرنے والے وکلاء نے جمعہ کی شام جنوبی پنجاب کے شہر ملتان پہنچنا تھا لیکن سندھ سے آنے والے لانگ مارچ کے بہت سے شرکاء کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ کوئٹہ سے آنے والے لانگ مارچ کے شرکا ء کو واپس کوئٹہ بھجوایا جا چکا ہے ۔

Pakistan Richter Demonstration in Karatschi

وکلاء اور سیاسی کارکنان صدر آصف علی زرداری کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے ہیں

لانگ مارچ کے شرکا ء کی راہ میں کس قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ملتان بار ایسو سی ایشن کے صدر محمود اشرف نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ جنوبی پنجاب میں سندھ سے داخلے کے تمام راستے سیل کئے جا چکے ہیں اور ملتان میں داخلے کے تمام راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق ملتان میں پکڑ دھکڑ اور چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور تمام ٹرانسپوٹروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لانگ مارچ کے شرکاء کو گاڑیاں فراہم نہ کریں ۔ ہوٹلوں، سی این جی اسٹیشنوں اور پٹرول پمپ کے مالکان کو بھی لانگ مارچ کے شرکا ء کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے زبانی احکامات پہنچاد ئے گئے ہیں۔

محمود اشرف کے مطابق ان ساری مشکلات کے باوجود وکلاء کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ہفتہ کے روز ملتان سے قافلوں کی صورت میں لاہور کے لئے روانہ ہونے کی کوشش کریں گے۔

وکلاء کے معروف رہنما حامد خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ لانگ مارچ اب ایک نئے انداز سے جاری ہے۔ وکلاء پندرہ مارچ کو بہت بڑے قافلے کی صورت میں لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوں گے۔ ان کے مطابق وکلاء کی کچھ تعداد بڑے شہروں سے نکلنے والے قافلوں میں شرکت کرے گی جبکہ باقی وکلاء کو براہ راست اسلام آباد پہنچنے کے لئے کہہ دیا گیا ہے۔

ادھر پندرہ اور سولہ مارچ کو لاہور اسلام آباد موٹر وے کے بند کئے جانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ ان اطلاعات کے پیش نظر وکلا ء اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں اپنے طور پر اسلام آباد کے لئے روانہ ہو رہی ہے۔ ادھر پنجاب حکومت نے لوگوں کی توجہ لانگ مارچ سے ہٹانے کے لئے چودہ اور پندرہ مارچ کو بسنت کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔

ممتاز قانون دان اعتزاز احسن نے جمعہ کے روز مختلف ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وکلاء کا لانگ مارچ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی بحالی تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر وکلاء کے مطالبات ماننے میں مخلص ہے تو اسے اپنی نیک نیتی کے اظہار کے لئے تمام گرفتار وکلاء کو رہا کرنا چاہیے اور لانگ مارچ کے راستے میں لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا لینا چاہیے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کا اعائدہ کیا کہ وکلاء پرامن رہتے ہوئے اسلام آباد میں سولہ مارچ کو ضرور دھرنا دیں گے۔

ادھر اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں پاکستان میں جاری بحران کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی شخصیات کی مشاورت جاری ہے۔