1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت اورغیر واضح آئینی صورت حال

پاکستان مسلم لیگ نون کےرہنما نواز شریف کی انتخابی نا اہلی کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کوبھی آئینی سطح پرغیر واضح صورت حال کا سامنا ہے۔

default

مسلم لیگ نون کے رہنما (دائیں سے بائیں) جاوید ہاشمی، نواز شریف اور شہباز شریف لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر فاتحہ خوانی کرتے ہوئے

پنجاب اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کے بعد شہباز شریف نے رکن اسمبلی کے طور پر اپنی ذمے داریوں کا حلف اٹھایا اور پھران کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے میں بھی دیر نہ لگی۔ لیکن شہباز شریف کی ایک اور صوبائی حلقے سے انتخابی امیدواری کی جو درخواست دی گئی تھی وہ واپس نہ لی گئی اور اب پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ ایک اور حلقے سے بھی منتخب ہو گئے ہیں۔

ان حالات میں آئینی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف کے صوبائی اسمبلی کی ایک اور نشست پر انتخاب کے بعد ان کی موجودہ رکنیت خود بخود منسوخ ہو گئی ہے۔ لہٰذا صوبائی قانون ساز ادارے کے رکن کے طور پر انہیں اپنے نئے حلقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے سیاستدان کے طور پر نئے سرے سے حلف لینا ہوگا، کیونکہ ان کا اب تک موثر سمجھا جانے والا رکنیت کا حلف نامہ اور اس وجہ سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر انتخاب دونوں ہی غحیر موثر ہو چکے ہیں۔

Großbritannien Pakistan Oppositionsführer Nawaz Sharif darf aus dem Exil zurückkehren

کیا نواز شریف کو اب یہ دھچکا بھی برداشت کرنا پڑے گا کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی موجودہ حکومت ختم ہو جائے؟

اس رائے کی کئی آئینی ماہرین حمائت کرتے ہیں تو کئی دیگر ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف اگلے تیس روز میں خود یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ صوبائی اسمبلی کی کون سی نشست رکھنا چاہتے ہیں اور کون سی خالی کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستانی سیاست میں یہ موضوع عوامی اور سیاسی سطح پر ایک وسیع تر بحث کی وجہ بن جانے کے علاوہ متنازعہ بھی ہوچکا ہے۔

اس لئے کہ اگر شہباز شریف کو واقعی نئے سرے سے رکن اسمبلی کے طور پر اپنےعہدے کا حلف اٹھانا پڑا تو پاکستان کے مروجہ قوانین کے مطابق وہ پھر سے، یعنی اپنے سیاسی کیرئیر میں مجموعی طور پرتیسری مرتبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب نہیں ہو سکیں گے۔

پاکستان میں صوبائی سطح پر ایک آئینی بحران قرار دیئے جانے والے اسی تنازعے کو اپنی رپورٹ کا موضوع بنایا لاہور میں تنویر شہزاد نے۔