1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کون کر رہا ہے؟

حال ہی میں گلشن اقبال پارک میں لاہور شہر کی تاریخ کے سب سے خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، ان کے حوالے سے تاحال یہی واضح نہیں کہ ان کا حقیقی انچارج کون ہے۔

پنجاب میں عسکریت پسندوں، دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف اس وقت دو بڑے آپریشن جاری ہیں۔ ایک آپریشن آرمی چیف کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے، جس میں پاک فوج کے جوان، رینجرز اور حساس ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس آپریشن سے پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسری طرف دہشت گردوں کے خلاف جاری ایک اور آپریشن میں پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکار پولیس اور صوبائی انٹیلیجنس کی مدد سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اگرچہ پنجاب حکومت کے ذمہ داران یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کارروائیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں تاہم پچھلے چند دنوں کے دوران ان کارروائیوں نے یہ راز پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے کہ پنجاب آپریشن کی حد تک تو سویلین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ’ایک ہی صفحے‘ پر بالکل نہیں ہیں۔

دونوں طرف سے اپنے اپنے اعداد و شمار جاری کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عسکری ادارے انٹیلیجنس کی بنیاد پر پنجاب کے تمام مشکوک علاقوں میں کارروائیاں کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ سویلین حکومت صوبہ پنجاب کے سندھ اور بلوچستان سے ملنے والے سرحدی علاقوں کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ لوگوں سے پاک کرنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہی ہے۔

اپنی اپنی کارروائیوں کے لیے میڈیا کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ کیا مقابلے بازی کی یہ صورتحال دہشت گردی کے حقیقی خطرات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے گی؟ بہت سے ماہرین اس سوال کا جواب ہاں میں نہیں دے رہے۔

اس صورتحال کے حوالے سے معلومات رکھنے والے پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بدھ کے روز پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے اپنی تمام طے شدہ مصروفیات ترک کر کے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ایک خصوصی ہنگامی ملاقات میں انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ اس موقع پر کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے اہم وزراء سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رینجرز کو آپریشن کے محدود اختیارات تو دیے جا سکتے ہیں لیکن انہیں کرپشن کے خلا ف کارروائیوں کا اختیار نہیں ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے بقول مسلم لیگ نون کو ڈر ہے کہ قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والے صوبہ پنجاب (جس کی حمایت کسی بھی پارٹی کو وزارت عظمیٰ دلوانے میں اہم ہوتی ہے) پر اگر حکمران جماعت کا کنٹرول کم ہوگیا تو اس کو آنے والے دنوں میں سیاسی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ممتاز تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب میں دو آپریشنز کی وجہ یہ ہے کہ آرمی آئی جی پولیس پنجاب کے ماتحت کام نہیں کر سکے گی۔ دوسری طرف پنجاب کی سویلین حکومت محکمہ انسداد دہشت گردی اور پنجاب پولیس کے ذریعے کارروائیاں کرنا چاہتی ہے اور حکومت اس آپریشن کی نگرانی سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی۔

ان کے بقول اس صورت حال میں سول ملٹری تعلقات میں مزید تناؤ آ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس صورتحال کے سنگین ہو جانے کی صورت میں مسلم لیگ نون کو اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑے اور ایسا مقام بھی آ سکتا ہے کہ مسلم لیگ نون کو فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب نون لیگ کے حمایتی سیاسی اراکین پارلیمنٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ ایک بات واضح ہے کہ پنجاب میں آرمی آپریشن کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کے صوبے پر مکمل بالا دستی برقرار رکھنے کے عزائم کو ٹھیس پہنچے گی۔

ڈاکڑ عسکری کے بقول یہ صورتحال مناسب نہیں ہے کیونکہ آپریشن کے حوالے سے بہت سے کاموں میں فوج کو سویلین حکومت کی بھی ضرورت ہے۔ اگر سول اور ملٹری فاصلے بڑھ جائیں تو اس سے آپریشن کے نتائج پر بہت منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان آرمی نے سیاسی حکومت کے مشورے کے بغیر ضرب عضب شروع کیا تھا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب حکومت کی یہ خواہش نہ تھی کہ فوج پنجاب میں آپریشن کرے۔ ان کے بقول ابھی بھی اس بات کا امکان ہے کہ پنجاب حکومت فوج سے اس آپریشن میں تعاون نہ کرے۔ لیکن ان کے بقول میڈیا اور سول سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رینجرز کو بالآخر اختیارات دینا ہی پڑیں گے۔

پاکستان کے معروف عسکری تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب میں ملٹری آپریشن کی ضرورت تھی اور اسے بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا اور اسے کسی بھی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول ہو سکتا ہے کہ سول اور ملٹری اداروں کے الگ الگ آپریشن ان دونوں کی کسی مفاہمت اور حکمت عملی کی وجہ سے بھی ہوں۔

DW.COM