1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں دہشت گردی، مقدس مقامات پر خوف کے سائے

پاکستان میں دہشت گردی کے سائے اب مذہبی مقامات کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ جامعہ نعیمیہ کے سانحے کے بعد در باروں، مسجدوں اور فوجی آپریشن کی حمایت کرنے والی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔

default

پنجاب میں طالبان کی جانب سے مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سید علی ہجویری کے مزار، دربار بی بی پاک دامن، حضرت میاں میر کے دربار، کربلا گامے شاہ اور شاہ جمال میں واقعہ درباروں سمیت کئی علاقوں میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ درباروں کی حفاظت کے لئے نہ صرف پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے بلکہ مقدس مقامات کے آس پاس سیکیورٹی کیمرے اور سکینرز بھی لگائے جا رہے ہیں۔

لاہور میں بی بی پاک دامن کے در بار کو عام زائرین کے لئے دہشت گردی کے خدشات کی بنا پر گزشتہ روز بند کر دیا گیا تھا۔ اس علاقے کے رہائشی افتخار بٹ کہتے ہیں کہ لاہور کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ بی بی پاک دامن کے دربار کو عام زائرین کے لئے بند کیا گیا ہے۔ اس دربار کو جانے والی سڑکوں کو عام ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور مقامی لوگوں کے اشتراک سے حفاظتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ جو چوبیس گھنٹے دربار کی حفاظت کر رہی ہیں۔ اگرچہ دربار بی بی پاک دامن میں پیر کی شام کچھ زائرین کو داخلے کی دعوت تو مل گئی تھی لیکن خوف کی فضا اب بھی باقی ہے۔

Sicherheitsmaßnahmen vor Schreinen in Pakistan

بی بی پاک دامن کے مزار کے باہر پولیس اہلکار تلاشی میں مصروف

فہیم نامی ایک نوجوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دربار پر آنے والے زائرین کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ کئی زائرین بیرونی گیٹ کے باہر سے ہی دعا مانگ کر واپس جا رہے ہیں۔ دربار کے احاطے میں موجود ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت ان زائرین کو داخلے کی دعوت نہیں دی جا رہی ہے جن کے پاس کوئی بیگ، شاپر یا کوئی دوسری ایسی اشیاء ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق دربار پر آنے والے زائرین کو دس منٹ سے زیادہ احاطے میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال صوبے کے کئی دوسرے علاقوں میں موجود مذہبی مقامات پر بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سید علی ہجویری کے مزار پر بھی سیکیورٹی کے انتظامات کافی سخت ہیں۔ یہاں تہ خانے میں موجود گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ کو گاڑیوں کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ دربار کے تمام دروازے بند کرکے خواتین اور مردوں کے لئے الگ الگ دو مین دروازے کھلے ہوئے ہیں جہاں پر سخت چیکنگ کے بعد زائرین کو دربار میں داخل ہونے دیا جاتا ہے۔

داتا دربار کے قریب موجود ایک عقید ت مند محمد شفیع کا کہنا تھا کہ سانحہ جامعہ نعیمیہ کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مذہبی مقامات پر دہشت گردی کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ داتا دربار کے قریب موجود پکی پکائی دیگوں کا کاروبار کرنے والے ایک شخص طارق نے بتایا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر نے ان کے کاروبار کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کی روزانہ کی سیل 80 فیصد کم ہو گئی ہے۔

ادھر اعلیٰ سول افسروں، عدلیہ کے ججوں اور وزیروں کے رہائشی علاقے جی او آر ون کو عام پبلک کےلئے بند کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے کو نوگو ایریا قرار دیتے ہوئے اس کے ارد گرد چار دیواری تعمیر کی جا رہی ہے اور اس علاقے میں داخلے کے تمام ذیلی راستے بند کر دئے گئے ہیں۔

ادھر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے آنے والے وزیروں اور ارکان اسمبلی کو سخت ترین حفاظتی مراحل سے گزرنا پڑھ رہا ہے۔

رپورٹ : تنویر شہزاد، لاہور

ادارت : عاطف توقیر