1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب میں ایک سو سے زائد بچے ابھی تک لاپتہ

لاہور ہائی کورٹ میں بچوں کے اغوا کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست کی سماعت کے دوران پنجاب پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ سے دو ہزار سولہ تک پنجاب میں سات ہزار نو سو ساٹھ بچے لاپتہ ہوئے۔

پنجاب پولیس کے مطابق اغوا ہونے والے بچوں میں سے ایک سو چھیالیس کو ابھی تک بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے۔ اس موقع پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کے اعضاء نکالنے کا پنجاب میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل مسعود جو کہ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچوں کے اعضاء ٹرانسپلانٹ ہو ہی نہیں سکتے۔ ان کے بقول پاکستان میں حکومت نے اعضاء کی پیوند کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اعضاء کی پیوند کاری کے لیے حکومت سے باقاعدہ اجازت لینا پڑتی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کی روک تھام کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں اپنی سفارشات تیار کرکے پیش کرے۔

ڈاکٹر فیصل مسعود نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے لیے ملک بھر میں گیارہ ہسپتال موجود ہیں اور ان کے مطابق انسانی اعضاء کی خریدوفروخت کے عمل کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ پولیس افسران اور سرکاری ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل ویجیلینس کمیٹیاں ہر ضلع میں مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پشاور اور کراچی سمیت ملک کے کئی حصوں سے بچوں کے اغوا، ان کی خرید و فروخت اور ان کے اعضاء کی اسمگلنگ کی خبریں میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پنجاب پولیس کے حکام کی طرف سے چند ماہ قبل سپریم کورٹ میں یہ بتایا گیا تھا کہ گجرات اور اس کے گر د و نواح میں بچوں کے اعضاء فروخت کر نے کے لیے ان کو اغوا کرنے کی شکایات ملتی رہی ہیں اور ایسی شکایات کی چھان بین اور ایسے جرائم کے خاتمے کے لیے کام ہو رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی جانے والی ایک قرارداد میں بچوں کو اغوا کرنے والوں کے لیے موت کی سزا مقرر کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ میں درخواست گزار محفوظ احمد کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ کی سکیورٹی کا مناسب انتظام موجود نہیں جس کی وجہ سے بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس پر لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں بچوں کو پِک اینڈ ڈراپ کرنے والی گاڑیوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق عملدرآمد کی رپورٹ 27 اکتوبر کو طلب کر لی ہے۔

اس کیس کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے کی۔ اس موقع پر عدالت کے روبرو چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور پولیس حکام بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے اس موقع پر پولیس کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں میں بازیاب کرائے گئے چھ ہزار پانچ سو نوے بچوں کا ڈیٹا اور ابھی تک لاپتہ بچوں کی معلومات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو فراہم کرے اور بچوں کی بازیابی کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔

بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم چائلڈ رائٹس موومینٹ پنجاب کی فوکل پرسن ثناء خواجہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے ادارے کے زیر اہتمام حال ہی میں مکمل کیے جانے والے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق بچوں کے اعضاء کی اسمگلنگ کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کے بقول سائنسی طور پر بھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بچوں کے اعضاء کو نہ تو سٹور کیا جا سکتا ہے، نہ ہی وہ پیوند کاری کے قابل ہوتے ہیں۔

انہوں نے سن 2011 میں بچے کے اغوا کے حوالے سے پاکستانی سوشل میڈیا پر پھیلنے والی تصویروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے پاکستان میں یہ خبریں پھیلائی گئیں کہ یہ بچہ اغوا کر کے اعضا کی فروخت کے لیے پاکستان سے تھائی لینڈ بھجوایا جا رہا تھا جبکہ یہ بات صریحاﹰ غلط تھی۔

ثناء خواجہ کے بقول سوشل میڈیا پر تصدیق کے بغیر ایسی خبریں شیئر کرنے سے سوسائٹی میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں بچوں کے اغوا کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے۔ زیادہ تر بچے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ ان کے بقول حکومت زیادہ بچوں کو بازیاب کرا کر اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہو سکتی۔ ان کے بقول جب تک ایک بھی بچہ بازیاب ہونا باقی ہے اس وقت تک حکومت کامیابی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

ان کے بقول بچوں کا بڑی تعداد میں گھر سے بھاگنا بھی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے اور ان اسباب کا خاتمہ کیا جا نا چاہیے جو بچوں کے گھر سے بھاگنے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں پر تشدد کے حوالے سے تو قوانین موجود ہیں لیکن بچوں پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے ابھی تک قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔