1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب ميں وسيع تر آپريشن، ’سينکڑوں مشتبہ جنگجو گرفتار‘

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب ميں پوليس نے شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف وسيع تر کارروائياں کرتے ہوئے قريب تيرہ سو مشتبہ جنگجوؤں کو حراست ميں لے ليا ہے جب کہ اس دوران کم از کم تين درجن جنگجو مارے بھی جا چکے ہيں۔

پنجاب پوليس کے دو اہلکاروں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے پی کو بتايا کہ شدت پسند عناصر کے خلاف قريب دو ہفتوں سے جاری آپريشن ميں اب تک چھتيس جنگجو مارے جا چکے ہيں۔ يہ جنگجو نيم فوجی دستوں اور پوليس اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے مختلف واقعات ميں ہلاک ہوئے۔ پنجاب پوليس کے مطابق صوبے ميں موجود پناہ گاہوں پر متعدد چھاپے مارے گئے اور اس دوران قريب تيرہ سو مشتبہ جنگجوؤں کو حراست ميں بھی لے ليا گيا۔

اگرچہ پاکستانی حکومت اور متعدد سياست دان بھی  ملک ميں جہادی تنظیموں کی موجودگی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تاہم مبینہ طور پر یہاں  متعدد جنگجو گروپ سرگرم ہيں۔ جنوبی صوبہ سندھ ميں سيہون شريف کے مزار پر گزشتہ ماہ کيے جانے والے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹيٹ نے قبول کی تھی۔ اس حملے ميں اٹھاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ زخميوں کی تعداد تين سو سے زائد تھی۔

خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی رپورٹوں کے مطابق پنجاب ميں آپريشن صوبائی وزير قانون رانا ثناء اللہ کی طرف سے چند دہشت گرد گروپوں کے دفاع کے باوجود جاری ہے۔ ماضی ميں وزير قانون کچھ ايسی متنازعہ شخصيات کا بھی دفاع کر چکے ہيں، جن کے بارے ميں مانا جاتا ہے کہ وہ مذہبی فرقوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے  ميں ملوث رہے ہيں۔ نيوز ايجنسی ايسوسی ايٹڈ پريس کے ساتھ ايک انٹرويو ميں رانا ثناء اللہ نے بھارت مخالف گروپوں کے ليے ’دہشت گرد‘ لفظ کے استعمال پر بھی سوال اٹھايا۔ ايسا ہی ايک گروپ لشکر طيبہ ہے، جو آج کل جماعت الدعوۃ کے نام سے فعال ہے۔ اس گروپ کے امير حافظ سعيد کو امريکا دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور ان کے سر کی قيمت دس ملين ڈالر ہے۔ حافظ سعيد پر بھارتی زير انتظام کشمير ميں حملوں ميں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ ہی حافظ سعيد کو نظر بند رکھنے کا اعلان کيا ہے۔

اس کے باوجود وزير قانون رانا ثناء اللہ نے حافظ سعيد کے خلاف الزامات پر سواليہ نشان لگا ديا۔ جماعت الدعوۃ کے امير اور ان کے حاميوں کے بارے ميں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ان کا تعلق کشمير سے ہے۔ وہ يہ سمجھتے ہيں کہ کشمير ميں بھارتی مظالم ناقابل قبول ہيں۔‘‘ رانا ثناء اللہ نے يہ بھی کہا کہ سعيد کو پاکستانی عدالتيں ناکافی شواہد کی بناء پر دو مرتبہ رہا کر چکی ہيں۔

سياسی مبصرين و ناقدين کا ماننا ہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت ان جہادی گروپوں کے خلاف زيادہ سختی کا مظاہرہ نہيں کر رہی، جن کے ٹھکانے  پنجاب ميں ہيں۔ اسی دوران آپريشن کو صوبے ميں رہائش پذير پختونوں کے خلاف استعمال کيا جا رہا ہے۔ اس بارے ميں سوال کے جواب ميں صوبائی وزير قانون نے کہا کہ پوليس پنجاب ميں پختون اکثريت والے محلوں اور علاقوں کی تلاشی اس ليے لے رہی ہے کيونکہ لاہور میں ہونے والے کئی بڑے حملوں کے پيچھے قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کا ہی ہاتھ تھا۔ رانا ثناء اللہ نے البتہ ايسی خبروں کو مسترد کر ديا کہ حاليہ آپريشن ميں بالخصوص پختونوں کو نشانہ بنايا جا رہا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد ميں قائم سينٹر فار ريسرچ اينڈ سکيورٹی اسٹڈیز کے ایگزيکٹو ڈائريکٹر امتياز گل کے بقول پاکستان کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے ميں صوبہ پنجاب ميں موجود کالعدم تنظيموں کا تناسب سب سے زيادہ ہے۔ ان کے مطابق خطرناک تصور کيے جانے والے 240 گروپوں ميں سے 107 کے مراکز  پنجاب ميں ہيں اور ان ميں سے بھی اکہتر لاہور کے آس پاس قائم ہيں۔ امتياز گل نے مزيد بتايا، ’’ان ميں 148 فرقہ واريت يا نسلی بنيادوں پر قائم گروپ ہيں، چوبيس گروپ جہادی ہيں اور بارہ گروپ ايسے ہيں، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ نظام خلافت کی بحالی کے ليے کام کر رہے ہيں، جو بنيادی طور پر اسلامک اسٹيٹ يا داعش کا منشور بھی ہے۔‘‘ امتياز گل نے اپنے ادارے کی ويب سائٹ پر اسی ہفتے شائع ہونے والے ايک بلاگ ميں يہ اعداد و شمار بيان کيے ہيں۔