1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پنجاب ميں آپريشن: القاعدہ کے کمانڈر سميت سترہ جنگجو ہلاک

پاکستانی صوبے پنجاب ميں سکيورٹی حکام نے انسداد دہشت کی کارروائيوں ميں سترہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کيا ہے۔ ہلاک ہونے والے چند دہشت گرد مبينہ طور پر ايک يونيورسٹی پر حملہ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پاکستان ميں انسداد دہشت گردی سے متعلق ايک اہلکار نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتايا ہے کہ پچھلے چھتيس گھنٹوں کے دوران مختلف کارروائيوں کے دوران کم از کم سترہ شدت پسندوں کو ہلاک کيا جا چکا ہے۔ سکيورٹی اہلکار نے يہ بات اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر جمعہ بيس مئی کے روز بتائی۔ انہوں نے مزيد بتايا کہ ہلاک ہونے والوں ميں دہشت گرد نيٹ ورک القاعدہ، طالبان کے جماعت الاحرار نامی دھڑے اور لشکر جھنگوی کے جنگجو بھی شامل تھے۔ ايک اور سکيورٹی اہلکار کے بقول اِن ميں سے چند جنگجو وسطی صوبے پنجاب ميں ايک يونيورسٹی کے کيمپس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

سکيورٹی اہلکاروں نے ملتان ميں شدت پسندوں کی جنگل ميں واقع ايک پناہ گاہ پر بدھ اور جمعرات کی درميانی شب کارروائی کرتے ہوئے آٹھ جنگجوؤں کو ہلاک کر ديا۔ انہی جنگجوؤں کے چھ ساتھی اُس وقت ہلاک ہوئے جب جمعرات اور جمعے کی درميانی شب کمانڈوز نے ايک شاہراہ پر کارروائی کی۔ قبل ازيں اسی ہفتے ايک اور کارروائی ميں بھی تين شدت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان ميں انسداد دہشت گردی کی کارروائياں کرنے والے ادارے (CTD) کے مطابق جمعرات کو کيے جانے والے آپريشن ميں القاعدہ کا ايک سينیئر کمانڈر بھی مارا گيا۔ طيب نواز نامی يہ کمانڈر ملتان ميں کی گئی کارروائی ميں اپنی تنظيم کے سات ديگر ارکان کے ساتھ ہلاک ہوا۔

لاہور ميں مسيحيوں کے مذہبی تہوار ايسٹر کے موقع پر ہونے والے ايک خود کش دھماکے ميں بہتّر افراد ہلاک اور درجنوں ديگر زخمی ہو گئے تھے

لاہور ميں مسيحيوں کے مذہبی تہوار ايسٹر کے موقع پر ہونے والے ايک خود کش دھماکے ميں بہتّر افراد ہلاک اور درجنوں ديگر زخمی ہو گئے تھے

شدت پسند ايک عرصے سے پاکستان ميں افغان سرحد سے ملحقہ شمال مغربی حصوں ميں اپنی پناہ گاہوں ميں چھپتے آئے ہيں تاہم ان ميں سے چند ايک نے وسطی صوبہ پنجاب ميں بھی اپنے نيٹ ورک قائم کر ليے ہيں۔ آبادی کے لحاظ سے يہ پاکستان کا سب سے بڑا اور امير ترين صوبہ ہے۔ پاکستانی فوج نے پچھلے ہی مہينے يہ اعلان کيا تھا کہ ملک کے شمالی قبائلی علاقوں ميں جنگجوؤں کو پسپا کرنے اور علاقے پر دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے ليے عسکری آپريشن مکمل کر ليا گيا ہے اور اب ديگر حصوں ميں آپريشن کيا جا رہا ہے۔

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر لاہور ميں مسيحيوں کے مذہبی تہوار ايسٹر کے موقع پر ہونے والے ايک خود کش دھماکے ميں بہتّر افراد ہلاک اور درجنوں ديگر زخمی ہو گئے تھے۔ اسی واقعے کے بعد سکيورٹی حکام نے پنجاب ميں بھی آپريشن کا باقاعدہ آغاز کر ديا تھا۔