1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پنجاب اسمبلی میں خواتین کے تحفظ کا بل منظور

پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی میں خواتین کو گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی اور نفسیاتی تشدد، بدکلامی اور سائبر کرائمز سے تحفظ کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسمبلی نے ایک ایسے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی اور نفسیاتی تشدد، بدکلامی اور سائبر کرائمز قابل گرفت ہوں گے۔ ایسے کسی قانون کی عدم موجودگی میں پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد پر سزا ئیں جرائم کے خلاف عمومی وفاقی قانون کے تحت دی جارہی تھیں۔

پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے اسے خوش آئند قرار دیا۔ ان کے مطابق گھر کے اندر تشدد کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ ایسے واقعات کے خلاف اقدامات اب آسان ہو جائیں گے۔

یہ قانون گزشتہ برس بھی اسبملی میں پیش کیا گیا تھا تاہم پارلیمٹیرنینز کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے جانے کے باعث یہ منظور نہیں ہوسکا تھا۔ تاہم جمعرات کو پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر اس قانون کی منظوری دی ہے۔ یہ بل گورنر کی رسمی منظوری کے بعد قانون کا درجہ اختیار کر لے گا۔

فوزیہ وقار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس قانون کے تحت خواتین کو تشدد سے تحفظ کا ایک نظام فراہم ہو جائے گا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2014ء میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں سب سے زیادہ خواتین پر تشدد کے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس سال میں خواتین کو اغوا کرنے کے ایک ہزار سات سو سات کیسز جبکہ ریپ اور گینگ ریپ کے ایک ہزار چار سو آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں عزت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ 340 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی جانب سے متفقہ طور پر منظور شدہ بل کی رو سے خواتین کی شکایات کے لیے ٹال فری نمبر قائم کیا جائے گا جب کہ ان شکایات کی تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ پروٹیکشن کمیٹی بنائی جائے گی۔ پروٹیکشن آفیسر شکایت ملنے کے بعد متعلقہ شخص کو مطلع کرنے کا پابند ہو گا۔ بل کے تحت حفاظتی اہل کار سے مزاحمت کرنے پر چھ ماہ تک سزا اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ غلط شکایت یا اطلاع کرنے پر تین ماہ کی سزا اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

خواتین پر تشدد کرنے پر جی پی ایس ٹریکر سسٹم کی تنصیب کو عدالت کے حکم سے مشروط کیا گیا ہے، جی پی ایس ٹریکر سسٹم والے کڑے کو بازو سے اتارنے یا اس سے زبردستی کرنے والوں کو ایک سال قید اور 50 ہزار سے دو لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

بل کے تحت تشدد کی شکار خاتون کو گھر سے بے دخل نہیں کیا جا سکے گا۔ عدالتی حکم پر مرد، تشدد کی شکار خاتون کو تمام اخراجات دینے کا پابند ہو گا اور نان نفقہ ادا کرنے سے انکار پر عدالت تشدد کے مرتکب مرد کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے ادا کر سکے گی۔

بل میں رکھی گئی ایک شق کے مطابق خواتین پر تشدد کرنے والے مرد کو دو دن کے لیے گھر سے نکالا جا سکے گا۔ تشدد کے مرتکب افراد کو اسلحہ خریدنے اور اسلحہ لائسنس حاصل کرنے سے روکا جا سکے گا۔ ان کے پاس موجود اسلحے کو عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی جا سکے گی۔

پنجاب بھر میں متاثرہ خواتین کے لیے شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے، جبکہ شیلٹر ہومز میں متاثرہ خواتین اور ان کے بچوں کو بورڈنگ اور لاجنگ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ مصالحت کے لیے بھی سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس مفتی محمد نعیم کے مطابق یہ بل شریعت سے متصادم ہے کیوں کہ اس میں مرد کو عورت کا محکوم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک ٹیلی وژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو شریعت مطہرہ نے جو حقوق مہیا کیے ان پر عمل کیاجائے تو خواتین پر تشدد کسی صورت ممکن نہیں۔

DW.COM