1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پنجابی فلموں کو ’گنڈاسا کلچر‘ لے ڈوبا

رضیہ پھنس گئی غنڈوں میں، لفنگا، وحشی غنڈہ، اشتہاری راجپوت، بھولا اشتہاری، اج دا بدمعاش،گجر دا کھڑاک، موت کھیڈ جوانی دا، اور اچھو 302، یہ صرف نام ہیں، بارش میں فلمائے گئے گیتوں کے بے باک مناظر کا تو ذکر ہی نہ کیجیے۔

پنجابی فلموں کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب بہت اہمیت کا حامل رہا ہے، یہاں بننے والی ماضی کی پنجابی فلمیں ملکی فلمی صنعت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ پنجابی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان فلموں سے نہ صرف فلمی شائقین کو میعاری تفریح ملی بلکہ ان فلموں کے ذریعے عمدہ موسیقی والے وہ سدا بہار گیت بھی وجود میں آئے جو آج بھی اپنی چاشنی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں پنجابی فلم انڈسٹری کو آج کل ایک بحرانی کیفیت کا سامنا ہے، عام طور پر فلمساز پنجابی فلمیں بنانے سے گریز کر رہے ہیں، اگر کوئی پروڈیوسر فلم بنا لے تو اسے سینما مالکان چلانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس صورتحال میں پنجابی فلموں سے وابستہ پروفیشنل لوگ بددل ہو کر دوسرے شعبوں کی طرف جا چکے ہیں۔ پاکستان میں 2015ء میں بننے والی چالیس سے زائد فلموں میں پنجابی فلموں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہیں تھی۔

پنجابی فلمیں ان حالات کا شکار کیسے ہوئیں؟ دو سو سے زائد فلمیں تیار کرنے والے پاکستان کی فلم انڈسٹری کے معروف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر پرویز کلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجابی فلموں کا یہ حال پچھلے کئی سالوں کے دوران اس شعبے میں آنے والے ان تماش بین قسم کے لالچی لوگوں نے کیا ہے، جو کسی بھی لحاظ سے پروفیشنل نہیں تھے، ’’ان کے آنے کے بعد فلموں میں گنڈاسے آئے، کلاشن کوف کلچر دکھائی دیا، بدمعاشوں کے نام پر فلمیں بنیں، قانون کو توڑنے اور طاقت سے بات منوانے کے طرز عمل کو معاشرے کے مقبول سٹائل کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس صورتحال نے جہاں پنجابی فلم انڈسٹری کو برباد کیا وہاں معاشرے پر بھی بہت برے اثرات ڈالے۔ عام کم پڑھے لکھے لوگوں نے ایسی فلموں کے ہیروز کی نقالی کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کر دیا۔‘‘

رانجھے ہتھ گنڈاسا، رضیہ پھنس گئی غنڈوں میں، لفنگا، وحشی غنڈہ، اشتہاری راجپوت، غنڈہ پنجاب دا، بھولا اشتہاری، اج دی بدمعاش،گجر دا کھڑاک، شریکے دی اگ، موت کھیڈ جوانی دا، اچھو 302 اور یار بدمعاش ایسی چند پنجابی فلمیں ہیں جن کے ناموں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان کا متن کس طرح کا مواد لیے ہوئے ہوگا۔

پرویز کلیم کے مطابق، ’’ایسے لوگوں کی بنائی ہوئی پنجابی فلموں میں بارش میں فلمائے جانے والے بے باک مناظر نےبھی فیملیزکو پنجابی سینما گھروں سے دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور پاکستان کے سینسر بورڈ نے کبھی اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں اور کبھی پیسے دیکر ایسی فلموں کو منظور کروا لیا جاتا رہا۔‘‘

پرویز کلیم کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو آج جس قسم کے حالات کا سامنا ہے، اس کو اس مقام تک پہنچانے میں اسلحہ یا گنڈاسا کلچر کی حامل ایسی پنجابی فلموں کا بھی رول ہے، ’’بہادر ہونا جرم نہیں ہے لیکن ان فلموں نے بہادر شخص کو لُچا بنا کر پیش کیا ہے جو کہ غیر حقیقی ہے۔‘‘

ایک معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر عالیہ آفتاب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نوجوان فلموں کے اثرات قبول کرتے ہیں، وہ کرائم سین دیکھ کر جرم کرنے کے طریقوں سے بھی روشناس ہوجاتے ہیں، لڑائی مارکٹائی والی فلمیں معاشرے میں "اگریشن" کو فروغ دینے کا باعث بنتی ہیں۔

ڈاکٹر عالیہ کہتی ہیں کہ فلم ابلاغ کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اسے سوسائٹی کو معتدل بنانے اور امن کے فروغ کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پنجابی فلموں کے زوال کی وجہ سے پاکستانی کی پنجابی آبادی سے معاشرے کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اچھی تفریح، اچھے پیغامات اور اچھے بیانیے سے محروم چلی آ رہی ہے، سوسائٹی کو امن پر مبنی بیانیہ دینے کے لیے پنجابی فلم انڈسٹری بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے فلموں کے تقسیم کار عبدالخالق چوہدری نے بتایا کہ آج کل بننے والی فلمیں دور حاضر کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہیں، اس لیے اب یہ فلمیں منافع بھی نہیں دیتیں۔ ان کے بقول پنجابی فلموں کو پھر سے مقبول بنانے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑے گی۔

پچاسی سے زائد فلمیں بنانے والے پاکستان کے فلم ڈائریکٹر الطاف حسین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اچھی فلمیں اب بھی بن سکتی ہیں لیکن پاکستان کی حکومت کو پنجابی فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایک مئسلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں نئے بننے والے مہنگے سینماؤں کی بھرمار نے غریب آدمی کو تفریح سے دور کر دیا ہے، ’’جو شخص روزانہ پانچ سو روپے نہیں کماتا وہ پانچ سو کی ٹکٹ کیسے خرید سکتا ہے۔‘‘

محمد امین نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ اچھی پنجابی فلم آج بھی پنجاب میں ہر کوئی دیکھنا چاہے گا۔ ان کے مطابق بھارت سے سی ڈی فارمیٹ پر آنے والی پنجابی فلمیں میعار میں بہتر ہونے کی وجہ سے پاکستان میں دلچسپی سے دیکھی جا رہی ہیں۔

یہ بات قابل ذکرہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آج کل کالعدم تنظیموں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں اور دانشور حلقے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معاشرے میں فروغ امن پر مبنی نیا بیانیہ متعارف کروانے کی بات کر رہے ہیں۔