1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ ہی چاہيے، تو بلغاريہ کيوں نہيں؟

سال رواں کے دوران ہزارہا مہاجرين بلغاريہ پہنچ چکے ہيں تاہم بہت ہی کم اس ملک ميں مستقل قيام کے خواہاں ہيں۔ ڈوئچے ويلے سے منسلک ماريا الچيوا نے بلغاريہ کے سب سے بڑے مہاجرين کيمپ جا کر اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔

ترک سرحد سے قريب ساٹھ کلوميٹر کے فاصلے پر بلغاريہ کا سب سے بڑا ہرمانلی نامی مہاجر کيمپ قائم ہے۔ سينتيس سالہ شامی کرد پناہ گزين رشيد الاوی وہاں دو برس قبل پہنچا تھا۔ رشيد روانی کے ساتھ انگريزی زبان ميں بات چيت کر ليتا ہے اور اپنے آبائی شہر شامی دارالحکومت دمشق ميں وہ سياحوں کے ايک گائيڈ کے طور پر کام کرتا تھا۔ رشيد اپنی تمام جمع پونجی لگا کر پانچ سو يورو کے عوض اکتوبر سن 2013 ميں انسانی اسمگلروں کا سہارا ليتے ہوئے يورپ پہنچا تھا ليکن پھر آگے جانے کے ليے اس کے پاس مزيد رقم نہ تھی۔ رشيد کو بلغاريہ کی ريڈ کراس ماہانہ پانچ سو يورو ديتی ہے، جس کے بدلے وہ وہاں پہنچنے والے نئے شامی مہاجرين کی مدد اور ان کے ليے ترجمے کا کام کرتا ہے۔

DW.COM

اگرچہ بلغاريہ کو بلقان ممالک کے متبادل کے طور پر ديکھا جا سکتا ہے ليکن پھر بھی اس ملک ميں رشيد جيسے پناہ گزين شاز و نادر ہی ملتے ہيں۔ جو چند ايک تارکين وطن بلغاريہ پہنچ بھی جاتے ہيں، وہ بعد ازاں آگے بڑھ جاتے ہيں۔ سال رواں کے دوران بلغاريہ ميں قائم اندراج کے مراکز ميں ساڑھے چار ہزار مہاجرين کا اندراج ہو چکا ہے ليکن ان ميں سے صرف سات سو وہاں قيام پذير ہيں۔

شامی پناہ گزين رشيد الاوی کا شمار ان چند ايک افراد ميں ہوتا ہے، جنہوں نے بلغاريہ کو گھر بنايا۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے ہرمانلی کيمپ کے منتظم جارڈن ميلانو کہتے ہيں، ’’بات دراصل يہ ہے کہ تارکين وطن يہ بات جانتے ہيں کہ جرمنی، ڈنمارک اور سويڈن ميں انہيں کہيں زيادہ سہوليات ميسر ہوں گی۔ ہم انہيں يہاں صرف سر پر چھت اور کھانا پينا فراہم کرتے ہيں۔‘‘

کيمپ ميں موجود ايک اٹھائيس سالہ حاملہ شامی پناہ گزين اوآردا حسين اپنا موقف بيان کرتے ہوئے بتاتی ہے، ’’جرمنی ميں ہر چيز بہتر ہے۔‘‘ اوآردا اپنے خاوند اور سات بچوں کے ہمراہ ہرمانلی کے کيمپ ميں پچھلے چھ ماہ سے مقيم ہے۔ اس خاندان نے جرمنی پہنچنے کے ليے اسمگلروں کو نو ہزار يورو ادا کيے تھے تاہم رات کی تاريکی ميں گھنے جنگل ميں انسانی اسمگلر نے انہيں گاڑی سے يہ کہہ کر اتار ديا کہ وہاں سے ايک اور گاڑی آئے گی اور ان لوگوں کو سربيا پہنچا دے گی۔ پھر نہ تو وہ گاڑی آئی اور نہ وہ جرمنی پہنچ سکے۔ کچھ دير بعد انہيں پوليس نے حراست ميں لے ليا اور جرمنی تک پہنچنے کے ان کے خواب ادھورے رہ گئے۔ اوآردا کے اہل خانہ کو بلغاريہ ميں سياسی پناہ اور اب وہاں کے پاسپورٹ بھی دے ديے گئے ہيں، جن کی مدد سے وہ يورپی يونين ميں بلا رکاوٹ سفر کر سکتے ہيں۔ تاہم وہ سب آج بھی جرمنی ہی جانا چاہتے ہيں۔

سينتيس سالہ شامی کرد پناہ گزين رشيد الاوی

سينتيس سالہ شامی کرد پناہ گزين رشيد الاوی

ہرمانلی کيمپ کے منتظم جارڈن ميلانو کے بقول زيادہ تر مہاجرين بلغاريہ ميں ايک ہفتے سے زيادہ قيام نہيں کرتے۔ وہ رات کے وقت کيمپ چھوڑ کر چلے جاتے ہيں اور جن کے پاس رقم ہوتی ہے، وہ انسانی اسمگلروں کا سہارا لے ليتے ہيں۔ بلغاريہ ميں تين ماہ کيمپ ميں گزارنے کے بعد ہی ملازمت کی اجازت مل جاتی ہے۔ ايک خاتون کيمپ ميں ايک تيئس سالہ عراقی پناہ گزين سے دريافت کرتی ہے کہ آيا وہ باورچی يا بيکر کے طور پر کام کرنا چاہتا ہے؟ اس کے جواب ميں عراقی پناہ گزين کہتا ہے کہ اسے نہيں پتا۔ يہ خاتون بتاتی ہے کہ اب تک کيمپ ميں کسی نے بھی ساڑھے چار سو يورو ماہانہ کی اس ملازمت کی پيشکش قبول نہيں کی ہے۔