1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’پناہ گزین خواتین دہشت گردوں کی مائیں‘

چیک جمہوریہ کے وزیر اعظم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دے کر غیرقانونی تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کی۔ انٹرویو کے بعد ایک نازی تنظیم نے ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا۔

ہیکروں کی جانب سے چیک جمہوریہ کے وزیراعظم بوسلاف سوبوتکا کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی ٹویٹ میں کہا گیا، ’’جمہوری اشرافیہ یورپ کو تباہ کر رہے ہیں۔ اب ہتھیار اٹھانے، سر کاٹنے کی مشینیں بنانے اور انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔‘‘

ایک اور ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’’مہاجرین کے حامی، دہشت گردی کے حامی ہیں۔‘‘ وزیر اعظم کے آفیشل اکاؤنٹ سے بھیجی گئی ایک اور ٹویٹ میں تارکین وطن کی لاکھوں کی تعداد میں یورپ آمد کو ’’فوجوں کی یلغار‘‘ کہا گیا اور یہ بھی لکھا گیا کہ ’مہاجر خواتین دہشت گردوں کی مائیں‘ ہیں۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے ان کا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیکروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

چیک جمہوریہ کے وزیر اعظم نے ہیکنگ کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر میرا اکاؤنٹ نیو نازیوں نے ہیک کیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں ایک اچھا کام کر رہا ہوں۔‘‘

سوبوتکا کا اکاؤنٹ جرمنی کے کثیر الاشاعت روزنامے زُود ڈوئچے سائٹنُگ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ہیک کیا گیا تھا۔

مذکورہ انٹرویو میں سوبوتکا نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو یورپ میں جاری مہاجرین کے موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

سوبوتکا کا کہنا ہے، ’’جرمنی نے سیکورٹی خدشات کو سامنے رکھنے کی بجائے مہاجرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دینے کا فیصلہ کیا۔‘‘

انہوں نے کا مزید کہا، ’’جرمنی کا یہ پیغام مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ میں ایک گرین سگنل کے طور پر دیکھا گیا اور اس وجہ سے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت شروع ہو گئی۔ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے۔‘‘

یورپ میں جاری مہاجرین کے حالیہ بحران کے باعث چیک جمہوریہ کے عوام کی رائے بھی منقسم ہو چکی ہے۔ ہزاروں تارکین وطن چیک جمہوریہ سے گزرتے ہوئے جرمنی اور دیگر شمالی یورپی ممالک میں پہنچے۔ لیکن تارکین وطن کی نہایت کم تعداد نے اس ملک میں پناہ کی درخواست دی۔

Belgien EU Gipfel in Brüssels

چیک جمہوریہ کے وزیراعظم جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو یورپ میں جاری مہاجرین کے موجودہ بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

چیک جمہوریہ میں پناہ گزینوں کو قیدیوں کے مانند رکھا گیا اور ان سے غیر انسانی سلوک بھی کیا گیا، جس کے باعث اقوام متحدہ اور دیگر یورپی ممالک نے پراگ حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

مہاجرین کے بحران نے یورپی یونین کے اراکین میں بھی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ مغربی یورپی ممالک تارکین وطن کو ایک لازمی کوٹے کے تحت رکن ممالک میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جب کہ مشرقی یورپ کے ممالک اس منصوبے کے مخالف ہیں۔

DW.COM