1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’پناہ گزین اندر داخل مت ہوں، باہر انتظار کریں‘

ایک جرمن عدالت نے ایک اسٹور کے مالک کو مہاجرین کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔ اس اسٹور کے مالک نے مہاجرین کو اپنے اسٹور میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے انتباہی الفاظ لکھے ہوئے تھے۔

جرمنی کے جنوبی حصے کے ایک قصبے زیلب میں روزمرہ اشیاء کے ایک اسٹور کے مالک نے مرکزی داخلی دروازے پر ’پناہ گزین اندر داخل مت ہوں، باہر انتظار کریں‘ جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ اس جملے کے ساتھ ایک کتے کی تصویر بھی لگائی ہوئی تھی۔ اِس عمل کی پولیس کو رپورٹ کی گئی تو اِس اسٹور کے مالک کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام کے تحت مقدمہ شروع کیا گیا۔

جرمن صوبے باویریا کی ایک عدالت  نے اس اسٹور کے مالک کو نفرت پھیلانے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ جج رولینڈ کاسٹنر نے آج جمعرات، سترہ اکتوبر کو عدالتی کارروائی کے دوران واضح طور پر کہا کہ اسٹور میں داخل نہ ہونے کے الفاظ کے ساتھ کتے کی تصویر اُس کے جرم یعنی نفرت انگیزی پھیلانے کی تصدیق کے لیے کافی ہے۔ جج کے مطابق اسٹور کے مالک نے انسانوں کو ایک جانور کے مساوی قرار دے کر خود کو سزا کا حقدار ٹھہرایا ہے۔

Deutschland Flüchtlinge kommen an der ZAA in Berlin an (Getty Images/S. Gallup)

کئی جرمن قصبات میں مہاجرین کو مقامی آبادی کی اجانب دشمنی کا بھی سامنا ہے

 عدالت نے وکیلِ صفائی کا بیان سننے کے بعد اسٹور کے مالک پر اٹھارہ سو یورو کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ رقم دو بچوں کے اسکولوں کو عطیہ کرے اور مقررہ وقت پر عدم ادائیگی کی صورت میں اُسے چار ہزار نو سو یورو ادا کرنے ہوں گے۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمنی میں دوکانوں اور دوسرے اسٹورز میں کتے کے داخلے پر پابندی نہیں لیکن خاص طور پر خوراک فروخت کرنے والے اسٹور کے مالکان حفظانِ صحت کے اصولوں کے تحت اپنے گاہکوں سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا کتا باہر باندھ کر داخل ہوں۔

 زیلب نامی قصبہ جرمن صوبے باویریا کے علاقے بالائی فرانکونیا کے ضلع وُونزیڈل میں واقع ہے۔ یہ چیک جمہوریہ کی سرحد سے بیس کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد چودہ ہزار سے زائد ہے۔