1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ گزینوں کے مرکز میں آگ، ہلاک ہونے والی خاتون نے لگائی تھی

تارکین وطن کی رہائش گاہ کو لگنے والی آگ کے اس واقعے کی تحقیق کرنے والے اہلکاروں کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون نے خودکشی کرنے کی غرض سے اپنے کمرے میں خود ہی آگ لگائی تھی، جس نے بعد ازاں عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

وفاقی جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ایک چھوٹے سے شہر باڈ ڈریبرگ میں مہاجرین کو فراہم کی گئی ایک رہائش گاہ میں جمعہ گیارہ اگست کے روز آگ لگنے کے ایک واقعے میں ایک اٹھائیس سالہ مہاجر خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔ مقامی حکام کے مطابق جھلس کر ہلاک ہونے والی مہاجر خاتون کا تعلق البانیا سے تھا۔

سویڈن: مہاجرین اب خیموں میں رہیں گے

وہ جرمن شہر، جہاں مہاجرین کو گھر بھی ملتا ہے اور روزگار بھی

ہفتہ بارہ اگست کی شام مقامی پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مہاجرین کی رہائش گاہ کو لگنے والی آگ میں کسی دائیں بازو کے شدت پسند شخص یا گروہ کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے اور نہ ہی یہ آگ کسی فنی خرابی کے باعث لگی تھی۔

اس واقعے کی تحقیقات کے بعد پولیس حتمی طور پر اسی نتیجے پہنچی کہ ہلاک ہونے والے مہاجر خاتون نے خودکشی کی غرض سے آگ لگائی تھی۔ پولیس کے مطابق آگ لگانے سے قبل اس نوجوان مہاجر خاتون نے اپنے موبائل فون سے بھیجے گئے ایک پیغام میں بھی خودکشی کرنے کا ذکر کیا تھا۔

مہاجرین کو فراہم کردہ اس رہائش گاہ میں جمعے کے روز عمارت کی دوسری منزل میں آگ لگی تھی جس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ امدادی کارکنوں نے عمارت میں مقیم نوے سے زائد تارکین وطن کو بحفاظت عمارت سے نکال لیا تھا تاہم نوجوان مہاجر خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔

 

امدادی کارروائیوں میں ایک سو چھپیس اہلکاروں نے حصہ لیا جنہوں نے کئی گھنٹوں بعد آگ پر قابو پا لیا۔ اس واقعے میں مہاجرین کے کیمپ میں کام کرنے والے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اب یہ عمارت رہائش کے قابل نہیں رہی اور تمام مہاجرین کو عارضی طور پر دوسرے کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اٹلی کی مہاجرین کو واپس بھیج دینے کی دھمکی

عبدالحلیم کو یورپ پہنچنے میں تئیس برس لگے

DW.COM