1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’پناہ گزینوں کے آبائی ممالک پر دباؤ بڑھانا ہو گا‘

سوشل ڈیموکریٹ اور کرسچن سوشل یونین کے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک بدری کے منتظر سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے آبائی ممالک پر دباؤ ڈالا جائے۔ یہ ماہرین چاہتے ہیں کہ اِن افراد کو اِن کے ممالک قبول کریں۔

سی ایس یو کے داخلہ پالیسی کے ترجمان اسٹیفن مائر کے مطابق، ’’جِن افراد کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، اُن کے آبائی ممالک پر دباؤ بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہیں لازماً اپنے شہریوں کو قبول کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ممالک ایسا نہیں کرتے تو آخری صورت میں اِن کو دی جانے والی ترقیاتی امداد بھی کم کر دینی چاہیے۔ اسی طرح سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے داخلہ امور کے ماہر برُکہارہڈ لشکا کہتے ہیں کہ ایسے کئی ممالک ہیں جو اپنے ہی شہریوں کو دوبارہ سے قبول کرنے میں ہیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مراکش، تیونس اور الجزائر کا خصوصی طور پر نام لیا۔

جرمنی میں اکتوبر کے آخر تک تقریباً بائیس ہزار افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد 2015ء میں جرمنی سے نکالے جانے والے افراد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ستمبر کے آخر تک 45 ہزار افراد نے رضاکارانہ طور پر جرمنی چھوڑا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخر تک دو لاکھ چھ ہزار پناہ گزین ایسے تھے، جنہیں جرمنی سے نکالا جانا تھا۔ تاہم ان میں سے ڈیڑھ لاکھ کو عارضی طور پر رہائش کا اجازت نامہ دے دیا گیا ہے جبکہ باون ہزار سے زائد ایسے ہیں، جو لازماً نکالے جانے والے لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا سے چار ہزار دو سو، باڈن وورٹمبرگ سے تین ہزار اور باویریا سے دوہزار آٹھ سو پناہ گزینوں کو ان کے آبائی ممالک روانہ کیا گیا۔ اسٹیفن مائر اور برُکہارہڈ لشکا کہتے ہیں کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس سال جرمنی بدر کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ اگر کوئی پناہ گزین واپسی میں دانستہ طور پر خودی ہی رکاوٹ ڈالے یعنی اپنی شناخت کو مخفی رکھنے کی کوشش کرے یا سفری دستاویزات نہ بنوائے تو اس کے رہائش کے اجازت کو مزید مختصر کر دیا جائے اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد کو بھی کم کر دیا جائے۔