1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ گزینوں پر حملے، آٹھ مشتبہ جرمن گرفتار

جرمن دفتر استغاثہ نے بتایا ہے کہ پناہ گزینوں پر حملوں کے شبے میں آٹھ مشتبہ جرمنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی بنیادی وجہ ان افراد کی جانب سے ایک انتہا پسند تنظیم قائم کرنا ہے۔

ان آٹھ جرمنوں نے یہ تنظیم جرمنی کے مشرقی حصے کے ایک قصبے فرائی ٹال میں قائم کی تھی۔ بظاہر سکیورٹی اہلکاروں نے اِسے ایک دہشت گرد تنظیم خیال کیا ہے۔ اس کے زیادہ تر اراکین کو انتہائی دائیں بازو کا بھی قرار دیا جا رہا ہے اور یہ کارکن پناہ گزینوں پر کیے گئے کئی حملوں میں ملوث بھی سمجھے جاتے ہیں۔ فرائی ٹال کا قصبہ ڈریسڈن نامی ب‍ڑے شہر سے آٹھ کلو میٹر کی دوری پر ایک چھوٹے سے دریا کے کنارے پر واقع ہے۔

جرمن اخبار زوڈ ڈوئچے سائٹنگ کی رپورٹ کے مطابق فرائی ٹال کا قصبہ پناہ گزینوں پر حملوں کی وجہ سے سارے جرمنی میں پہچانا جانے لگا ہے۔ مبینہ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پر بھی حملوں کے شواہد حکام کو ملے ہیں۔ جمع کیے گئے ثبوتوں کے مطابق یہ جرائم پیشہ گروہ سن 2015 سے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

Deutschland Stadt Freital Ortsschild (Getty Images/M. Rietschel)

فرائی ٹال کا قصبہ ڈریسڈن نامی ب‍ڑے شہر سے آٹھ کلو میٹر کی دوری پر ایک چھوٹے سے دریا کے کنارے پر واقع ہے

یہ وہی برس ہے جب مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور کئی دوسرے ملکوں بشمول پاکستان و افغانستان سے نو لاکھ سے زائد مہاجرین جرمنی میں داخل ہوئے تھے۔ فرائی ٹال کے قصبے سے گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کے حملوں میں کوئی شخص ہلاک تو نہیں ہوا لیکن زخمی ضرور بتائے گئے ہیں۔ جرمنی میں پناہ گزینوں کے خلاف کئی مقامات پر انتہائی دائیں بازو کے افراد حملے کرنے سے چوکتے نہیں ہیں۔

جرمن حکام کے مطابق رواں برس کے دوران رہائش کے متلاشی پناہ گزینوں کے خلاف ہونے والے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی آمد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اِس مناسبت سے چند روز قبل ایک اخبار میں ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی۔

 جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے جرائم (BKA) نے اخبار نوئن اوسنابرُؤکر کو بتایا کہ رواں برس جنوری سے اکتوبر تک پناہ گزینوں کے خلاف 832 حملوں کی شکایات پولیس کو موصول ہو ئی ہیں۔ گزشتہ برس اسی عرصے میں ایسے جرائم کی تعداد 637 تھی اور پورے سال میں ایک ہزار سے زائد حملے کیے گئے تھے۔ ادارے کے مطابق زیادہ تر حملوں میں انتہائی دائیں بازو کے افراد ملوث ہیں۔