1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ گزينوں کی يورپ آمد ’قبضے کی منظم کوشش‘ ہے، چيک صدر

چيک جمہوريہ کے صدر ميلوس ذيمان نے لاکھوں کی تعداد ميں مہاجرين کی يورپ آمد کا موازنہ ’قبضے کی منظم کوشش‘ سے کرتے ہوئے زور ديا کہ شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو داعش کے خلاف ہتھيار اٹھانے چاہييں۔

چيک ری پبلک کے صدر ميلوس ذيمان نے کہا، ’’ميں يقين کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہميں قبضے کی منظم کوشش کا سامنا ہے اور مہاجرين کی يورپ آمد بے ساختہ نہيں۔‘‘ انہوں نے يہ بات مسيحیوں کے مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پر گزشتہ روز اپنے خطاب ميں کہی۔

ميلوس ذيمان نے کہا کہ رحم کی گنجائش ان پناہ گزينوں کے ليے بنتی ہے، جو عمر رسيدہ يا بيمار ہيں يا پھر بچے ہيں تاہم نوجوانوں کو ان کے ملک ميں سرگرم جہاديوں سے لڑنے کے ليے واپس بھيج دينا چاہيے۔ 2013ء ميں چيک جمہوريہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ذيمان نے مزيد کہا، ’’غير قانونی تارکين وطن کی ايک بہت بڑی اکثريت کنوارے اور صحت مند لڑکوں کی ہے۔ ميں يہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ يہ لوگ اپنے ملکوں کو دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے شکنجے سے چھڑانے کے ليے ہتھيار کيوں نہيں اٹھا رہے؟‘‘ چيک صدر کے بقول متاثرہ ممالک سے بڑی تعداد ميں لوگوں کی نقل مکانی کے نتيجے ميں داعش مضبوط ہو رہی ہے۔

اکہتر سالہ ميلوس ذيمان نے پناہ گزينوں کے موجودہ بحران کا موازنہ اس وقت سے کيا، جب 1939ء سے 1945ء کے درميان نازی دور ميں ہزاروں، لاکھوں چيک باشندوں نے اپنا ملک چھوڑ ديا تھا۔

يہ امر اہم ہے کہ چيک صدر کی جانب سے پناہ گزينوں کے بارے ميں متنازعہ بيان بازی کا يہ پہلا واقعہ نہيں۔ نومبر ميں وہ ايک اسلام مخالف ريلی ميں بھی شريک ہوئے تھے، جو دارالحکومت پراگ ميں نکالی گئی تھی۔ يہ بھی اہم ہے کہ ذيمان کی تنقيد صرف پناہ گزينوں کے ليے مختص نہيں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے يہ بيان بھی ديا تھا کہ جس دن قرض ميں ڈوبے ملک يونان کا يورو زون سے اخراج ہوتا ہے، اس کے اگلے ہی روز چيک جمہوريہ ميں دوبارہ يورو متعارف کرا ديا جانا چاہيے۔ ان کے اس بيان پر ايتھنز نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفير کو واپس بلا ليا تھا۔

سابقہ کميونسٹ رياستوں چيک جمہوريہ اور سلوواکيہ نے اٹھائيس رکنی يورپی يونين کے پناہ گزينوں کی تقسيم سے متعلق منصوبے کو مسترد کر ديا ہے۔ چيک جمہوريہ ميں کرائے گئے رائے عامہ کے ايک حاليہ جائزہ کے مطابق ستر فيصد چيک شہری اپنے ملک ميں مہاجرين کو پناہ ديے جانے کے خلاف ہيں۔