1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ گزينوں کی صفوں ميں دہشت گرد شامل ہيں، شامی صدر کا دعویٰ

خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ايک تازہ انٹرويو ميں دعویٰ کيا ہے کہ يورپ پہنچنے والے شامی تارکين وطن کی صفوں ميں ’دہشت گرد‘ بھی شامل ہيں۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کی چيک جمہوريہ کے دارالحکومت پراگ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر اسد نے کہا ہے کہ يورپ آنے والے اکثريتی شامی پناہ گزين اچھے حب الوطن شامی باشندے ہيں تاہم ان کے بقول يہ بھی سچ ہے کہ مہاجرين کی صفوں ميں چھپ کر چند دہشت گرد بھی يورپ پہنچ رہے ہيں۔ شامی صدر نے يہ دعویٰ چيک جمہوريہ کے ايک ٹيلی وژن چينل کو ديے گئے اپنے ايک انٹرويو ميں کيا، جس کے کچھ حصے رواں گزشتہ پير کو نشر کيے گئے۔ متعلقہ چيک چينل کی طرف سے مطلع کيا گيا ہے کہ دمشق ميں حال ہی ميں اسد کا ریکارڈ کیا جانے والا یہ انٹرويو مکمل شکل میں آج بروز منگل نشر کيا جائے گا۔

يہ امر اہم ہے کہ يورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد ان دنوں اپنی تاريخ کے مہاجرین کے بدترين بحران کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افريقہ کے شورش زدہ ملکوں کے علاوہ پاکستان، افغانستان، بنگلہ ديش اور ايران سے لاکھوں مہاجرين سياسی پناہ کے ليے يورپ پہنچ چکے ہيں۔ يورپ پہنچنے والے پناہ گزينوں ميں واضح اکثريت شامی شہريوں کی ہے، جو اکثر اوقات بغير کسی دستاويز کے يورپ پہنچتے ہيں۔ متعدد يورپی ممالک ميں اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہيں کہ پناہ گزينوں کی صفوں ميں شامل ہو کر دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ يا داعش کے جنگجو بھی يورپ پہنچ سکتے ہيں۔ تيرہ نومبر کو فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں ہونے والے حملوں کے بعد بر اعظم يورپ پہنچنے والوں کے حوالے سے اضافی کنٹرول کے مطالبات بڑھ گئے ہيں۔ پيرس ميں استغاثہ کے مطابق حملے ميں ملوث دو حملہ آوروں کے ’فنگر پرنٹس‘ یا انگليوں کے نشانات اکتوبر ميں يونان سے گزرتے ہوئے ليے گئے تھے۔

اپنے انٹرويو ميں شامی صدر نے فرانس پر ’دہشت گردی ميں تعاون‘ کا الزام عائد کيا۔ پبلک ٹيلی وژن چيک ٹی وی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’ظاہر ہے، اگر آپ شامی شہريوں سے پوچھيں تو وہ آپ کو بتائيں گے کہ وہ فرانس ميں کسی امن کانفرنس کے انعقاد کے حق ميں نہيں کيونکہ فرانس دہشت گردی، اور جنگ کی حمايت کرتا ہے نہ کہ امن کی۔‘‘

بشار الاسد نے اپنے ايک تازہ انٹرويو ميں دعویٰ کيا ہے کہ يورپ پہنچنے والے شامی تارکين وطن کی صفوں ميں ’دہشت گرد‘ بھی شامل ہيں

بشار الاسد نے اپنے ايک تازہ انٹرويو ميں دعویٰ کيا ہے کہ يورپ پہنچنے والے شامی تارکين وطن کی صفوں ميں ’دہشت گرد‘ بھی شامل ہيں

اس کے برعکس پيرس حکومت اسد کو اپنے ہی عوام کا ’قصائی‘ قرار ديتی ہے۔ پير کے روز فرانسيسی وزير خارجہ لاراں فابيوس نے کہا کہ جب تک اسد اقتدار ميں ہيں، اسلامک اسٹيٹ کے خلاف لڑائی ميں شامی فوج کے ساتھ تعاون خارج از امکان ہے۔ گزشتہ ہفتے اپنے دورہ امريکا ميں فرانسيسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہا تھا کہ شام ميں ’اسد ہی حقيقی مسئلہ ہيں، وہ حل نہيں ہو سکتے۔‘

شام ميں اس وقت کسی مغربی ملک کا آخری فعال سفارت خانہ چيک جمہوريہ کا ہی ہے۔ ايسے ميں يہ دفتر شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے ليے دمشق حکومت کی يورپ اور امريکا کے ساتھ مکالمت کی کوششوں میں رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔