1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ کے ناکام متلاشیوں کو واپس لو، ورنہ ویزا پابندیاں بھگتو

یورپی یونین نے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی وطن واپسی میں تعاون نہ کرنے والے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو یورپی ممالک کے ویزوں کے اجرا میں سختی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے ایسے تارکین وطن کو واپس اپنے ملک میں قبول نہ کرنے یا اس سلسلے میں تعاون نہ کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں۔

جرمنی: مہاجرت کے نئے ضوابط

یورپی پارلیمان کے ارکان پناہ کے مشترکہ قوانین بنانے پر متفق

جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ کے مطابق اٹھائیس رکنی یورپی بلاک نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ایسے شہریوں کی وطن واپسی میں، جن کی یورپی ممالک میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستیں رد کی جا چکی ہیں، تعاون نہ کرنے والے ممالک کے لیے یورپی ویزا پالیسی سخت کر دی جائے گی۔ ویزوں کے اجرا میں سختی کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کے ویزوں کا حصول انتہائی دشوار ہو جائے گا۔

یورپی کمیشن نے ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ کو ان سخت اقدامات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ویزوں میں سختی کیے جانے کے اقدامات کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اسی دھمکی کے باعث بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے مابین یورپ سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی وطن واپسی سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔

رواں برس موسم بہار کے دوران بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے پناہ کے متلاشی افراد میں بنگلہ دیشی شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

یورپی کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ضمن میں کئی دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں اور تعاون نہ کرنے والے ممالک کے شہریوں کے لیے یورپی ممالک کے ویزوں کا حصول مشکل بنا دیا جائے گا۔

ویڈیو دیکھیے 00:29

ستّر افراد کے قتل میں مطلوب پاکستانی عدالت میں پیش

یورپی یونین کے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے جرمنی کے وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک اپنے شہریوں کی واپسی میں مسلسل تعاون نہیں کر رہا تو ردِعمل میں اس ملک کے شہریوں کے لیے بھی یورپ کا سفر دشوار بنا دینا ’ایک منطقی فیصلہ‘ ہے۔ ڈے میزیئر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے خاص طور پر ان ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں اور حکام کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو پناہ گزینوں کی واپسی میں اصل رکاوٹ ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جب یورپی یونین کے رکن ممالک مشترکہ طور پر دباؤ ڈالیں تو اس کے فوری نتائج سامنے آتے ہیں۔

جرمنی سے مہاجرین کو ملک بدر کر کے یونان بھیجا جائے گا، یونان

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں کتنا وقت لگتا ہے؟

DW.COM

Audios and videos on the topic