1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی اپیلیں، پاکستانی سر فہرست

جرمنی میں مہاجرت اور ترک وطن کے وفاقی ادارے نے گزشتہ برس سیاسی پناہ کی سات لاکھ درخواستوں پر کارروائی نمٹائی تھی۔ اس سال کی پہلی ششماہی میں ڈھائی لاکھ افراد نے ابتدائی فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی جرمنی میں انتظامی عدالتوں کے ججوں کی وفاقی تنظیم کے سربراہ روبرٹ زیگ میولر نے ملک کی انتظامی عدالتوں میں پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی جانب سے جمع کرائی گئی اپیلوں کی بڑی تعداد کے باعث پیدا شدہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سیاسی پناہ کی درخواستیں: جرمن عدالتوں کے جج کیا کہتے ہیں؟

اس سال اب تک مزید کتنے پاکستانی جرمنی پہنچے؟

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جرمنی کی انتظامی عدالتوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد تارکین وطن نے ابتدائی فیصلوں میں درخواست رد کر دیے جانے کے خلاف اپیلیں جمع کرا رکھی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:35

یہ بلوچ تارک وطن جرمنی کیوں آنا چاہتا ہے؟

مہاجرت اور ترک وطن سے متعلق وفاقی جرمن ادارے بی اے ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی قریب سات لاکھ درخواستیں نمٹائی گئی تھیں۔ ان میں سے چار لاکھ سے زائد تارکین وطن کو مختلف حیثیتوں میں جرمنی میں پناہ دے دی گئی تھی جب کہ دیگر تمام درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

بی اے ایم ایف کے مطابق گزشتہ برس جن درخواستوں پر فیصلے سنائے گئے تھے ان میں سے مجموعی طور پر اٹھائیس فیصد نے درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں کر رکھی ہیں۔

بی اے ایم ایف کے مطابق پناہ کی مسترد درخواستوں کے خلاف جمع کرائی گئی اپیلوں میں تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ اپیلیں پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے جمع کرائی گئی ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی اپیلوں کی شرح 53 فیصد سے بھی زائد ہے۔

پاکستانی تارکین وطن کے بعد کوسوو سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی اپیلوں کی شرح دوسرے نمبر پر ہے۔ کوسوو سے تعلق رکھنے والے قریب چالیس فیصد تارکین وطن نے ابتدائی فیصلوں میں اپنی درخواستیں رد کیے جانے کے خلاف اپیلیں کر رکھی ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اس حوالے سے چتھیس فیصد شرح کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ جرمنی میں پاکستانی تارکین وطن کو پناہ دیے جانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران قریب پندرہ ہزار پاکستانیوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے ہیں جن میں سے محض تین اشاریہ سات فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ دیگر چھیانوے فیصد سے زائد کی درخواستیں رد کر دی گئیں۔

گزشتہ برس تیرہ ہزار پاکستانی تارکین وطن کی درخواستوں پر فیصلے کیے گئے تھے، جن میں سے قریب ستانوے فیصد رد کر دی گئی تھیں۔ سن 2015 میں قریب سترہ فیصد پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستیں منظور کر لی گئی تھیں۔

کس جرمن صوبے میں مہاجرین کو پناہ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں؟

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

DW.COM

Audios and videos on the topic